ابن صفی – عہد رفتہ سے عہد حاضر تک۔۔ ایس ایم حسینی

اردو زبان میں سری ادب کا نام سنتے ہی ذہن کے پردہ پر ابھرنے والا جگمگاتا نام ابن صفی کا ہے، ابن صفی وہ پہلے جاسوسی ناول نگار ہیں جنہوں نے جاسوسی ناول کو گوناگوں مسائل سے سے جوڑ کر ایک نئی جہت کا آغاز کیا، انہوں نے اپنے ناولوں کو اس مقام تک پہونچایا … Read more

“کیا کانگریسی مسلم رہنماؤں کی آنکھیں ابھی بھی نہیں کھلے گی؟”

 _____محمد خالد داروگر ____ اترپردیش کے سون بھدر کے گھوڈ وال علاقہ میں گاؤں کے پردھان کے ذریعے کسانوں کو اپنی زمین خالی کرنے سے انکار کرنے پر گاؤں والوں اور پردھان کے مابین تنازعہ میں فائرنگ سے دس لوگوں کی موت اور 28/دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے کی اطلاع جیسے ہی کانگریس لیڈر … Read more

مسلمان کرے تو کرے کیا! مکّی دور کی طرح صبر کی حکمت عملی ہی درست… ظفر آغا

مسلمان کرے تو کرے کیا! موب لنچنگ ہو، اشتعال میں وہ سڑکوں پر نکل پڑے اور احتجاج کرے یا صبر و سکون سے ہر ذلت و خواری برداشت کرے! راقم الحروف نے پچھلے ہفتے اس موضوع سے متعلق اردو اور ہندی زبانوں میں ’ہوش کے ناخن لیں مسلمان، ورنہ مِٹ جائیں گے‘ عنوان سے ایک … Read more

حافظ ڈاکٹر محمدمرسی شہید جس نے خلافت ِراشدہ کی یاد تازہ کردی

مولانا سید احمد ومیض ندوی (استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد) گذشتہ دنوں مصر کے سابق اولین منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی شہادت کا جو سانحہ پیش آیا اس نے امت ِمسلمہ کی چولیں ہلا دیں، دنیا بھر میں غلبۂ اسلام اور سربلندی دین متین کی دیرینہ آرزو رکھنے والے فرزندان توحید پر سکتہ طاری … Read more

آر ایس ایس کو دستور میں بڑی تبدیلیوں کا انتظار بی جے پی حکومت پر عملدرآمد کی ذمہ داری

پی چدمبرم وزیراعظم مودی کو ایسے مسائل اُٹھانا بخوبی آتا ہے جو عوام کی توجہ منتشر کردیں گے۔ اُن کو اس حقیقت کا یقین ہوتا ہے کہ اپوزیشن اپنے ردعمل میں مختلف موقف والی آوازوں میں بولیں گے اور ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ ناقابل رد حقائق یا منطق کے ساتھ رائے دیں گے۔ … Read more

حکومت کے اندرون سرگرم ’چھوٹی حکومت‘ بڑا چیلنج

پی چدمبرم ہر حکومت حیرانی میں پڑجاتی ہے جب اسے کسی سنگین بحران کا سامنا ہوجاتا ہے۔ کوئی تو غلطی پر ہوتا ہے، لیکن ذمہ داری کوئی نہیں لے گا۔ آخرکار، معاملہ حکومت کے سربراہ… چیف منسٹر یا وزیراعظم کی میز پر رُک جاتا ہے۔ تاہم، گہرائی سے تحقیقات پر پتہ چل جائے گا کہ … Read more

برق گرنی ہے محض بیچارے مسلمانوں پر ظفر آغا لیجئے چناؤ ختم ہوئے کوئی ایک ماہ کی مدت گزرنے کو آئی۔ دیکھتے دیکھتے ممبران پارلیمنٹ کی حلف برداری بھی ہو گئی۔ اور تو اور جناب پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس بھی شروع ہو گیا۔ مودی حکومت کی جانب سے لوک سبھا میں پہلا بل بھی پیش ہو گیا۔ جانتے ہیں وہ بل کس بات سے تعلق رکھتا ہے! جی ہاں، وہ بل طلاق ثلاثہ ختم کرنے کو قانونی جامہ پہنانے سے تعلق رکھتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے مینوفیسٹو میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آئی تو طلاق ثلاثہ ختم کرے گی۔ لیکن آخر اس بات کی کیا جلدی تھی کہ اقتدار میں آتے ہی مودی حکومت کا پہلا قانون سازی کا عمل طلاق ثلاثہ کو ہی ختم کرنا ہو! سیاست میں عموماً باتیں اشاروں (جس کو ان دنوں انگریزی میں سگنل کہا جاتا ہے) کی شکل میں ہوتی ہیں۔ طلاق ثلاثہ بل کو سب سے افضلیت دے کر مودی حکومت نے اس بات کا سگنل دے دیا ہے کہ اس حکومت میں بالخصوص مسلم اقلیت کے تعلق سے کسی خصوصی مراعات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔میں یہاں یہ عرض کر دوں کہ راقم الحروف شاہ بانو معاملے کے وقت سے ذاتی طور پر طلاق ثلاثہ کے حق میں نہیں رہا ہے۔ قرآن کی رو سے طلاق ثلاثہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خود پرسنل لاء بورڈ طلاق ثلاثہ کو طلاق بدعت تسلیم کرتا ہے، اور اس کو ایک لعنت گردانتا ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ طلاق ثلاثہ کے حق میں مسلمانوں کی جانب سے جو تحریک چلائی گئی اس سے سیاسی اعتبار سے سنگھ اور بی جے پی کو بہت فائدہ پہنچا۔ کیونکہ بی جے پی نے اس وقت اڈوانی کی قیادت میں اس مسئلہ کو ملک کا مرکزی سیاسی مسئلہ بنا کر ہندو رد عمل پیدا کیا، جس کے بعد اس کو رام مندر تحریک کھڑی کرنے میں بہت مدد ملی۔ خیر وہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن اس وقت مودی حکومت نے طلاق ثلاثہ کو باقی تمام باتوں پر افضلیت دے کر یہ کھلا اشارہ دے دیا کہ اس کی افضلیت ہندو راشٹر کا قیام ہے اور اس ہندو راشٹر میں مسلمانوں کے لیے کوئی خصوصی یا عمومی اختیارات نہیں ہوں گے۔ یہ تو رہی قانون اور آئین کے حدود کے اندر کی بات۔ جہاں تک پارلیمنٹ کے باہر کا سوال ہے تو جس روز یہ مضمون لکھا جا رہا تھا اسی روز پونا شہر میں ایک مسلم شخص کو سڑک پر گھیر کر پیٹا گیا اور اس سے زبردستی ’جے سیا رام‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعرے لگوائے گئے۔ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے قبل ایسے دو تین واقعات کی خبریں آچکی تھیں۔ یعنی سنگھ پریوار کی جانب سے یہ سگنل صاف تھا کہ اب اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو ہمارے رحم و کرم پر جینا ہوگا۔ لب و لباب یہ کہ مودی حکومت کے اگلے پانچ سال مسلم اقلیت کے لیے پل صراط پر سفر کی مانند ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا! خیر، یہ تو رہی مودی حکومت کی اقلیتوں کے تعلق سے شروعات۔ لیکن زمینی حقیقت کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو مودی کو ووٹ دینے والی ہندو اکثریت کے بھی حق میں نہیں ہے۔ جولائی کے پہلے ہفتے میں حکومت کو اپنا پہلا بجٹ پیش کرنا ہے۔ لیکن ملک کی معیشت بدحال ہے۔ خود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں پچھلے 45-40 برسوں میں کبھی بے روزگاری اس قدر عروج پر نہیں تھی جیسی فی الحال ہے۔ خود ہماری ویب سائٹ پر یہ خبر لگی ہے کہ حکومت خود سرکاری نوکریوں میں کٹوتی کرتی جا رہی ہے۔ یعنی حکومت کے پاس جو خالی نوکریاں پڑی ہوئی ہیں حکومت ان کو بھی پر نہیں کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب سرکار نوکری دینے کو راضی نہیں تو پھر پرائیویٹ نوکریاں کہاں سے آئیں۔ اور آئیں تو آئیں کیسے۔ اکیلے کار انڈسٹری کا یہ عالم ہے کہ 52000 کاریں اور اسکوٹر موٹر سائیکلیں کارخانوں اور دکانوں پر کھڑی ہیں جن کا کوئی خریدار نہیں ہے۔ حالت یہ ہے کہ ابھی پچھلے ہفتے ٹاٹا موٹرس، ماروتی، مہندرا اور ہونڈا جیسی مشہور کار کمپنیوں نے یہ اعلان کر دیا کہ اب وہ کار بنانا بند کر رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب کار فیکٹریوں میں کام نہیں ہوگا تو وہاں بھی کام پر لگے لوگ باہر کیے جائیں گے۔ ادھر ہوائی جہاز رانی انڈسٹری کا یہ عالم ہے کہ جیٹ ائیر ویز بند ہو چکی ہے اور اس میں کام کرنے والے ہزاروں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اسی طرح قرضوں کے بوجھ سے دبے بینک ڈوبنے کے دہانے پر ہیں۔ کسان ہاہاکار کر رہا ہے۔ بازاروں اور دکانوں میں خاک اڑ رہی ہے۔ اب ان حالات میں وزیر خزانہ سیتارمن کیا بجٹ پیش کریں گی اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ بس عوام کو بہلانے کے لیے لمبے چوڑے اعلانات ہوں گے۔ کسانوں کی مدد کے لیے اتنے ہزار کروڑ روپیہ، بے روزگاری کم کرنے کو سینکڑوں نئی اسکیم، گھر گھر پانی پہنچانے کے لیے اتنے لاکھ کروڑ کی مراعات، غریبوں کو اتنے لاکھ سستے مکانات وغیرہ وغیرہ جیسے درجنوں اعلانات ہوں گے جن کے کوئی معنی و مطلب نہیں ہوں گے۔ وہ محض عوام کو مایا جال میں پھانسے رکھنے کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہوں گے۔ اور نریندر مودی یہ کیوں نہ کریں! کیونکہ ملک کی جس معاشی بدحالی کا خاکہ اوپر پیش کیا گیا وہ کوئی ایک ہفتے یا ایک ماہ پرانی صورت حال تو ہے نہیں۔ جب سے ملک میں نوٹ بندی لاگو ہوئی اور جی ایس ٹی ٹیکس عمل میں آیا تب سے ملک کے معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ محض امبانی و اڈانی جیسے چند بڑے سرمایہ داروں کے علاوہ مودی راج کے تقریباً پچھلے تین سالوں میں اس حکومت سے کسی کو کچھ نصیب نہیں ہوا۔ ملک میں مالیہ اور نیرو مودی جیسے لوگ بینکوں کو لوٹ کر ملک سے بھاگتے رہے لیکن حکومت کے ماتھے پر شکن بھی نہیں پڑی۔ بھلا حکومت کو فکر کیوں ہوتی کہ ملک کی معیشت بد سے بدتر کیوں ہوتی جا رہی ہے۔ کیونکہ نریندر مودی کو یقین تھا کہ وہ ایک سیاسی اسٹنٹ کریں گے اور عوام اپنی تمام پریشانیاں بھول کر ان کو ہی ووٹ ڈالے گی۔ بس مودی کو ایک دشمن کا حوا کھڑا کرنا ہوگا۔ لیکن وہ فرضی دشمن کے ساتھ لفظ مسلم ضرور جڑا ہونا چاہیے۔ کیونکہ سنہ 2002 میں گودھرا حادثہ کے بعد سے مودی مسلم دشمن کھڑا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ بس اس کے بعد ہندو اکثریت کے دلوں میں مسلم خوف طاری ہو جاتا ہے۔ اور بس اس صورت حال میں مودی خود کو ہندو اَنگ رکشک یعنی ہندو محافظ کا روپ دھارن کر ہندو رد عمل پر چناؤ جیت جاتے ہیں۔ ملک کی معاشی حالت جائے بھاڑ میں۔ جب مسلم منافرت پر عوام سب بھول کر ایک پلوامہ پر مودی کو برسراقتدار لانے کو تیار ہوں تو پھر مودی کو فکر کاہے کی! فکر ہو تو بے چارے مسلمانوں کو! کیونکہ ملک میں معاشی حالات جس قدر بدتر ہوں گی اتنا ہی حکومت مسلم منافرت پھیلانے پر مجبور ہوگی تاکہ اکثریت اپنے مسائل بھول کر مسلم منافرت کے مایا جال میں پھنسی رہے اور مودی حکومت ٹھاٹ سے چلتی رہے۔ ملک کی معیشت ابھی سے ہی خستہ ہے اور نہ ہی اس حکومت کو حالات سدھارنے کی کوئی فکر ہے۔ اس کو یہ معلوم ہے کہ انگریزوں کی طرح بانٹو اور راج کرو کی حکمت عملی اس کو اقتدار میں قائم رکھنے کو کافی ہے۔ اس لیے اگلے پانچ سالوں میں بھی وہی بانٹو اور راج کرو کی سیاست چلتی رہے گی۔ اور مودی مودی کے نعرے لگتے رہیں گے۔ لیکن ان پانچ سالوں میں برق گرے گی تو بس بیچارے مسلمانوں پر جو بقول علامہ اقبال نہ جانے کب سے ان کی قسمت ہو چکی ہے۔

برق گرنی ہے محض بیچارے مسلمانوں پر ظفر آغا لیجئے چناؤ ختم ہوئے کوئی ایک ماہ کی مدت گزرنے کو آئی۔ دیکھتے دیکھتے ممبران پارلیمنٹ کی حلف برداری بھی ہو گئی۔ اور تو اور جناب پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس بھی شروع ہو گیا۔ مودی حکومت کی جانب سے لوک سبھا میں پہلا بل بھی پیش … Read more

جدہ انڈین کمیونٹی کی جانب سے سفیر ہند ڈاکٹر اوصاف سعید کا جوش و خروش سے خیر مقدم

عارف قریشی عزت مآب سفیر ہند ڈاکٹر اوصاف سعید کا جدہ کی انڈین کمیونٹی کی جانب سے قونصل جنرل ہند عزت مآب محمد نور رحمان شیخ نے جدہ کی انڈین کمیونٹی کی جانب سے شال پوشی کی اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور اپنی خیرمقدمی تقریر میں کہا کہ سفیر ہند ڈاکٹر اوصاف سعید … Read more

’’ اقامہ ممیزہ ‘‘ یا خصوصی اقامہ

کے این واصف ’’ اقامہ ممیزہ ‘‘ یا خصوصی اقامہ پچھلے چند دنوں سے سعودی عرب میں بسے غیر ملکیوں میں زیر بحث ہے۔ آج ہم سعودی حکومت کی جانب سے خارجی باشندوں کو جاری کئے جانے والے اس خصوصی اقامہ کے بارے میں تفصیلات جو وقتاً فوقتاً حکومت کی جانب سے جاری کی گئی … Read more

ورلڈ کپ : پاکستان کی شکست

انڈیا کی کامیابی میں غیرمتوقع کچھ نہیں عرفان جابری انگلینڈ میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ میں گزشتہ اتوار کو اولڈٹریفورڈ، مانچسٹر میں ہندوستان نے پاکستان کو بُری طرح ہرایا، جس کے ساتھ دونوں ٹیموں کا اس سطح کے باہمی مقابلوں کا ٹریک ریکارڈ7-0 ہوگیا، جس کی شروعات 1992ء میں آسٹریلیا میں منعقدہ 5 ویں ورلڈ … Read more

کامیابی اتفاق نہیں ہوتی

محمد مصطفی علی سروری اس برس NEET امتحان کے نتائج کا 5؍ جون کو اعلان کیا گیا۔ جس میں راجستھان سے تعلق رکھنے والے نلین کھنڈیل وال نے 99.99 فیصد مارکس کے ساتھ پہلا آل انڈیا رینک AIR حاصل کیا۔ اخبار انڈین ایکسپریس کی 6؍ جون 2019ء کی رپورٹ کے مطابق کھنڈیل وال ہر روز … Read more

آئی ایم اے کا گھپلہ ۔حرص و لالچ کا عبرتناک انجام

مولاناسید احمد ومیض ندوی کسی بھی قوم کے استحکام کے لئے تین چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ (۱) دینی استحکام (۲) تعلیمی استحکا م(۳) معاشی استحکام ۔ جو قوم ان تینوں میدانوں میں مستحکم ہوتی ہے وہ آخرت میں سرخرو اور دنیامیں اپنا لوہا منواتی ہے۔ اس کے برخلاف جو قوم ان تینوں شعبوں میں … Read more

حکمران بی جے پی اور اپوزیشن میں طاقت کا عدم توازن

غضنفر علی خان 2009 ء کے عام چناؤ کے بعد جو نتائج آئے ان میں بی جے پی کی عوامی مقبولیت ایک طرح سے تسلیم کرلی گئی ہے۔ اپوزیشن بشمول کانگریس پارٹی اپنے نام نہاد اتحاد گھٹ بندھن کے باوجود اس قدر کم تعداد میں منتخب ہوئی کہ اس کے وجود اور عدم وجود میں … Read more

مسلم معاشرے میں ایک سماجی انقلاب کی ضرورت

ظفر آغا سنہ 1857 مغلیہ سلطنت کا زوال، سنہ 1947 ہندوستان کا بٹوارا اور قیام پاکستان، سنہ 1992 بابری مسجد کا انہدام اور مسلم کش فسادات، سنہ 2002 میں گجرات فسادات میں کھلے بندوں مسلم نسل کشی، اس سے قبل مراد آباد و ملیانہ جیسے فسادوں کی جھڑی، سنہ 2014 میں گجرات کے ’ہندو دلوں … Read more

"بھارت بھاگیہ ودھاتا” جو لوگ ترانہ ہندی کو ابھی بھی شرکیہ سمجھتے ہیں..

"بھارت بھاگیہ ودھاتا” یاسر ندیم الواجدی ہندوستان کے قومی ترانے "جن گن من” کے تعلق سے دینی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے۔ یوں تو پہلے بھی کبھی کبھار لوگ اس ترانے کے مفہوم، اور اس کے پڑھنے کی شرعی حیثیت کے تعلق سے سوال کیا کرتے تھے، لیکن اس سال پندرہ … Read more

آخر کب تک یہ سب ایسا ہی چلتا رہے گا

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ ہندوستان کی سیاست میں کچھ سالوں سے جو تبدیلیاں تیزی سے آرہی ہیں انہیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ آنے والے دنوں میں اقلیتوں، خاص کر مسلمانوں کے تئیں حکومت کی موجودہ طرز فکر میں کوئی بڑی پیش رفت ہوگی۔ چاہے آنے والے دنوں میں مرکز میں حکومت بی جے پی … Read more

اقبال کا شاہین نوجوان (بضمن یوم ولادت علامہ اقبال رح)

"ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی. لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی.” نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں . کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی اور عروج و زوال میں اس قوم کے نوجوان کلیدی کردار ادا کرتے ہیں . فی زمانہ امّت مسلمہ … Read more

اللہ کرےتجھ کو عطا جدت کردار

معزالرحمان، ناندیڑ قرآن اللہ تعالٰی کا زبر دست احسان اور عظیم الشان نعمت ہے، اس کلام کی کوئی مثال نہیں،اسی لیے فرمایا گیا کہ تمام انسان اور جنات ملکر بهی اس جیسا کلام بنانا چاہیں تو بنا نہیں سکتے.(بنی اسرائیل-88) قرآن کریم کی ایک بزرگی یہ بهی ہیکہ تمام مخلوق اس کےمقابلے سے عاجز ہیں، … Read more