ممبئی::(ورق تازہ نیوز) بھارتی محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اشاروں کے مطابق رواں سال مہاراشٹر میں ایل نینو (El Niño)** کے اثرات کے باعث بارش معمول سے کم رہنے کا امکان ہے۔ موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر مراٹھواڑہ کے اضلاع پر پڑ سکتا ہے، جہاں بارش میں کمی اور شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وسنت راؤ نائیک زرعی یونیورسٹی** کے محکمہ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر کیلاش ڈاخورے نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے اثرات کے باعث مراٹھواڑہ میں بارش کی مقدار کم رہنے اور گرمی کی شدت بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسانوں کو اس سال زرعی فیصلے احتیاط کے ساتھ لینے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ڈاخورے نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف ابتدائی بارشوں کی بنیاد پر بوائی نہ کریں بلکہ اچھی اور تسلی بخش بارش ہونے کے بعد ہی فصلوں کی کاشت شروع کریں۔ ان کے مطابق جلد بازی میں کی گئی بوائی بارش میں طویل وقفے کی صورت میں نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ موسمی امکانات کے پیش نظر کسان کم مدت میں تیار ہونے والی فصلوں کا انتخاب کریں تاکہ بارش کی کمی کی صورت میں نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
زرعی ماہرین کا ماننا ہے کہ کم پانی کی ضرورت والی اور مختصر دورانیے میں پکنے والی فصلیں اس سال نسبتاً بہتر نتائج دے سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر ایل نینو کا اثر برقرار رہا تو مراٹھواڑہ کے کئی اضلاع میں خریف سیزن متاثر ہو سکتا ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار، زیر زمین پانی کی سطح اور آبی ذخائر پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ زراعت اور موسمیات مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسانوں کو وقتاً فوقتاً رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔زرعی ماہرین نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی پیش گوئیوں پر مسلسل نظر رکھیں اور سرکاری زرعی مشوروں کے مطابق ہی بوائی اور فصلوں کے انتخاب کا فیصلہ کریں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔