آخر کب تک یہ سب ایسا ہی چلتا رہے گا

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

ہندوستان کی سیاست میں کچھ سالوں سے جو تبدیلیاں تیزی سے آرہی ہیں انہیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ آنے والے دنوں میں اقلیتوں، خاص کر مسلمانوں کے تئیں حکومت کی موجودہ طرز فکر میں کوئی بڑی پیش رفت ہوگی۔ چاہے آنے والے دنوں میں مرکز میں حکومت بی جے پی کی بنے یا کانگریس کی مسلمانوں کی معاشی اور سیاسی زوال میں کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔

یہ بات اظہرِ من الشمس ہوچکی ہے کہ افسر شاہی کا وہ طبقہ جس کے ہاتھوں میں زمام حکومت ہمیشہ رہتی ہے چاہے اعلیٰ عہدوں پر کوئی بھی براجمان ہو اپنے دلوں میں مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ نہیں رکھتا اور نہ اسے مسلمانوں کے حالات سدھارنے میں کوئی دلچسپی ہے۔ ایسے میں ہم مسلمانوں کی ذمہ داری دوہری ہوجاتی ہے کہ پہلے اپنے حالات میں بدلاؤلانے کی خود پہل کریں اور پھر ان گلیاروں میں بھی جہاں ہماری پہچان منفی بن چکی ہے، مثبت بنانے کی مسلسل کوشش کرتے رہیں۔ اس کے لئے سب سے اہم ہماری آپسی اتحاد ہے۔

بغیر اپنے صفوں میں درستگی لائے ہماری حیثیت صفر ہی رہے گی۔ اس بات کا اندازہ روز بروز کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے ہمیں بخوبی ہورہا ہے۔ اگر ہم نے ابھی بھی اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا نہیں کی تو وہ دن دور نہیں جب ہم ہندوستان کی سر زمین میں ایک قصہ پارینہ بن چکے ہوں گے۔ لیکن افسوس صد افسوس ہماری روش بتا رہی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ہم اپنی انا، ضد، ہٹ دھرمی اور مسلکی عصبیت کی قربانی نہیں دیں گے۔ گزشتہ دنوں میں جو منظر نامے ہمارے سامنے آئے، اُنہیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ ہم کتنے بڑے خطرے سے دوچار ہیں ایک ایسے خطرے سے جس کی طرف مکمل توجہ دے کر اگرہم نے کوئی پیش بندی نہیں کی تو خود ہمارا وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا جا سکتا ہے۔ پہلا منظر نامہ ہمارے ایک اصلاحی تحریک میں پیدا ہوئی آپسی اختلاف کا ہے، جو اس حد تک بھڑکا یا جا چکا ہے کہ اب بات تو تو میں میں سے نکل کر خون خرابے تک آچکی ہے۔ پتہ نہیں حالات کب ایسے موڑ میں داخل ہوجائے جہاں سے چاہ کر بھی واپسی ناممکن ٹہرے۔ دوسرا منظر نامہ ایک اصلاحی تحریک کی رد میں حد سے گزرتے ہوئے اپنے طالب علموں کے لئے ایک ایسا سوال نامہ تر تیب دینے کا ہے جس سے سوائے بغض اور عناد کے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں، کچے ذہنوں میں اپنے ہی دینی بھائیوں کے خلاف اتنی نفرت پیدا کر کے آخر ہم چاہتے کیا ہیں۔

تیسرا منظر نامہ پارلیمنٹ ہاؤس کا ہے جہاں ہماری ایک معتبر شخصیت جنہیں ہمارے قائدین میں سے ہونے کا شرف حاصل ہے، مسلکی تعصب میں مبتلا ہو کر ہمارے ہی ایک کلمہ گو طبقے کو دہشت گرد بتا رہی ہے۔ بھلے سے بعد میں اپنی بات سے رجوع کر لیا گیا ہو لیکن اس بات سے جو نقصان ہو چکا ہے اس کی بھر پائی ممکن ہی نہیں ہے۔ آخر کس چیز نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ اتنا بڑا الزام خود اپنے دینی بھائیوں پر وہ بھی ایک ایسی جگہ کھڑے ہو کر لگائیں جہاں سی کہی جانے والی ہر بات دنیا کے کونے کونے میں سنی جاتی ہے۔ یہ حقیقت میں اس نفرت کی گونج ہے جو طالب علمی کے دور میں ہی ذہنوں میں سرایت کرادی گئی ہے۔ ان تینوں منظر نامے میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ کیا ہے اس پر آپ خود غور کرلیں۔ اندھی تقلید کے اس بھیانک اندھیارے میں اگر کوئی حق اور سچائی کی شمع جلانے کی کوشش کرتا ہے تو تاریکیوں کے یہ پرستار اُس پر کس بری طرح یلغار کرتی ہیں اس کا اندازہ آجکل ہر آئے دن دیکھنے میں آرہا ہے۔ اب جب کہ فسطائی طاقتیں کھل کر ہمارے خلاف صف آرا ہوچکے ہیں، کیا ہم اب بھی آپس میں الجھتے رہیں گے۔ کیا مسلکی اور فکری اختلافات اتنے اہم ہیں کہ ہم اپنے ان مخالفین کے خلاف باطل طاقتوں سے گٹھ جوڑ کرنے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔خدارا ہوش کے ناخن لیں، یہ فسطائی طاقتیں تو چاہتی ہی ہیں کہ ہم لخت لخت ہو کر آپس میں الجھتے رہیں، اور ہم ہیں کہ انا اور عصبیت میں مبتلا ہو کر اُن کے ایجنڈے کو تقویت دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ آپسی جھگڑے، یہ ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی، فاسق اور منافق کے طعنے، دہشت گردکے الزام، ان سب سے سوائے انتشار اور فساد کے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔اس سے آپس میں دوریاں ہی بڑھیں گی اور اس کا راست فائدہ فسطائی طاقتوں کو ہی ہوگا۔ آخر کب تک یہ سب ایسا ہی چلتا رہے گا۔

حالات بتا رہے ہیں کہ آنے والا ہر دن ہمارے لئے امتحانات ہی لے کر آرہا ہے، ایسے میں ہم اس کے لئے کتنے تیار ہیں اس کا فیصلہ ہم خود کرلیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں اپنے آباؤاجداد کی وراثت کی حفاظت ہو، اس ملک میں برابر کے شہری بن کر ایک باعزت زندگی گزاریں، ہماری نسلیں معاشی اور تعلیمی میدان میں خوب ترقی کریں تو ہمیں پہلے اپنے صفوں کی خبر لینی ہوگی۔ اختلافات انسانی فطرت کا حصہ ہیں، اس سے فرار ممکن ہی نہیں ہے مگر اسے ایک حد میں رکھ کر اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب تک ہم آپس میں نہیں جڑیں گے سوائے ذلت اور پھٹکار کے ہمیں کچھ نہیں ملنے والا۔اللہ ہمیں سمجھ دے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading