آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین 10 محرم کے بعد کی جائے گی: ایرانی حکام

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں قائم ہیڈکوارٹر نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ ان کا جنازہ اور تدفین 10 محرم کے بعد کی جائے گی۔ادارے کے مطابق اس فیصلے کی وجہ ’ان دنوں ایران اور دنیا کے مختلف حصوں میں جاری مجالسِ عزا‘ کو قرار دیا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے تہران میونسپلٹی کے نائب ڈائریکٹر برائے ثقافتی و سماجی امور نے کہا تھا کہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ممکنہ طور پر ’ذوالحجہ کے آخر یا محرم کے آغاز میں‘ ادا کی جائے گی۔محمد امین توکلی زادہ نے کہا تھا کہ ان تقریبات کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب کے سپرد کی گئی ہے اور اس سلسلے میں تین دن کی ’عوامی ریلیوں‘ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ان کے مطابق، الوداعی تقریب کے بعد نمازِ جنازہ اور دیگر رسومات ادا کی جائیں گی جو تہران میں کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ’دارالحکومت میں 1.5 کروڑ سے دو کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading