مدھیہ پردیش۔ کیو ں یہ مسلم بیوروکریٹ اپنا نام تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

مدھیہ پردیش۔ کیو ں یہ مسلم بیوروکریٹ اپنا نام تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

قبل ازیں انہوں نے کہاکہ”ایک شیطان کی طرح خان نامیرے تعقب کررہا ہے“۔

بھوپال۔ ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر حکومت مدھیہ پردیش کے ایک بیوروکریٹ نے ہفتہ کے روز کہاکہ ”نفرت کی تلوار“ سے خود کو بچانے کے لئے وہ چاہتے ہیں کہ اپنا تبدیل کرلیں۔

اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں بے شمار ناولوں کے مصنف جس میں انڈر ورلڈ ڈان ابو سلیم کی محبت اور جیل کی کہانی بھی شامل ہے‘نیاز احمد خان نے بڑھتے ہجومی تشدد کے واقعات کا خوف اور ملک میں مسلم کمیونٹی کی حفاظت پر اپنی تشویش کا اظہار کیاہے۔

اپنے مجوزہ کتاب کے کور کے ساتھ پوسٹ کرتے ہوئے خان نے لکھا کہ”پچھلے چھ ماہ سے اپنی نئی کتاب اور خود کے لئے ایک نیا نام تلاش کررہاہوں تاکہ میں اپنی مسلم شناخت کو چھپا سکوں۔

خود کو نفرت کی تلوار سے سے بچاسکو ں جو ضروری ہے“

نیاز نے ٹوئٹ کیاکہ”مذکورہ نیا پرتشدد ہجوم سے مجھے بچائے گا۔ اگر میرے سا پر ٹوپی نہیں ہے میں نے کرتا نہیں پہناہے او رچہرے پر داڑھی نہیں ہے میں بڑی آسانی کے ساتھ ہجوم کو اپنا فرضی نام بتاکر وہاں سے بچ کر نکل سکتاہوں۔

تاہم اگر میر ا بھائی روایتی لباس زیب تن کئے ہوئے اوراس کے چہرے پر داڑھی ہے تو حالات نہایت خطرناک ہوگئے ہیں“

مذکورہ بیورکریٹ نے کہاکہ وہ اپنانام تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اپنی اسلامی شناخت کو چھپاس کیں اور انہوں نے مزیدکہاکہ یہ ان کی کمیونٹی کے دیگر لوگوں کے لئے بھی بہتر ہے اپنا نام تبدیل کریں کیونکہ کوئی بھی ادارہ ان کی حفاظت کا اہل نہیں ہے۔

مزیدکہاکہ وہ بالی ووڈ اداکاروں کو بھی جسکاتعلق ان کی کمیونٹی سے وہ اپنا نام تبدیل کرلیں کیونکہ ان دنوں ان کی فلمیں بھی بہتر کار وبار نہیں کررہی ہیں۔

خان نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ”بالی ووڈ اسٹار جن کا میری کمیونٹی سے تعلق ہے وہ بھی اپنانیا نام تلاش کرلیں تاکہ اپنی فلموں کو بچاسکیں۔

اب ٹاپ اسٹارس کی فلمیں بھی فلاپ ہورہی ہیں۔ وہ اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش کریں“

خان اس وقت سرخیوں میں ائی تھی جب انہوں نے بطور بیورکریٹ یہ سوشیل میڈیا کے ذریعہ جنوری میں کہاتھا کہ نام کی وجہہ سے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیاجارہا ہے۔

قبل ازیں انہوں نے کہاکہ”ایک شیطان کی طرح خان نامیرے تعقب کررہا ہے“۔

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading