ناندیڑ میں بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے پر 7 سالہ بچے کی دردناک موت، شہریوں میں شدید غم و غصہ

ناندیڑ، : (ورق تازہ نیوز)ناندیڑ-واگھالا سٹی میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 12 کے علاقے حمیدیہ کالونی میں مہاوترن (MSEB) کی مبینہ لاپرواہی کے باعث ایک 7 سالہ معصوم بچے کی کرنٹ لگنے سے المناک موت واقع ہوگئی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد پورے ناندیڑ شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور شہریوں نے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

متوفی بچے کی شناخت عادل ساجد خان پٹھان (عمر 7 سال) کے طور پر ہوئی ہے۔ عادل کے والد ساجد خان پٹھان کا تعلق اصل میں تعلقہ لوہا سے ہے، تاہم روزگار کے سلسلے میں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ناندیڑ کی حمیدیہ کالونی (ملنگ بابا بلڈنگ کے عقب میں) ایک کرائے کے مکان میں مقیم تھے۔

اطلاعات کے مطابق 6 جون کی شام تقریباً 7:30 بجے عادل گھر سے کھیلنے کے لیے باہر نکلا تھا، لیکن کافی دیر گزر جانے کے باوجود واپس نہ آنے پر اہلِ خانہ پریشان ہوگئے اور اس کی تلاش شروع کردی۔ بچے کی تلاش کے لیے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر بھی اس کی تصاویر شیئر کرکے عوام سے مدد کی اپیل کی گئی تھی۔

اندھیرے میں کھڑا بجلی کا کھمبا بن گیا موت کا سبب

رات گئے علاقے سے گزرنے والے ایک گاڑی سوار کی نظر بجلی کے ایک کھمبے کے قریب بے ہوش پڑے ایک بچے پر پڑی۔ اس نے فوری طور پر مقامی شہریوں کو اطلاع دی۔ لوگ موقع پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ بچے کی موت ہوچکی ہے۔

مقامی افراد کے مطابق علاقے میں روشنی کا مناسب انتظام نہیں تھا، جبکہ بجلی کے کھمبے سے منسلک سروس وائر ٹوٹی ہوئی تھی، جس کے باعث کھمبے میں کرنٹ اتر آیا تھا۔ ابتدائی اندازے کے مطابق عادل نے اسی کرنٹ زدہ کھمبے کو چھوا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

اس دلخراش حادثے کے بعد مقامی شہریوں نے مہاوترن کی مبینہ غفلت پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندان کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading