ناندیڑ (ورق تازہ نیوز)چند لمحوں کی غفلت نے ایک خاندان کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔ ناندیڑ شہر کے دیگلور ناکہ علاقے میں واقع ایک پیٹرول پمپ پر پیش آئے دل دہلا دینے والے حادثے میں محض تین سالہ معصوم بچہ کار کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گیا۔ اس افسوسناک واقعے سے پورے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی، جبکہ ماں کے سامنے ہی ان کے جگر کے ٹکڑے نے آخری سانس لی، جس سے وہاں موجود افراد کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع پربھنی کا ایک جوڑا اپنے تین سالہ بیٹے کے ساتھ ناندیڑ میں سسرال آیا ہوا تھا۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ بافنا روڈ پر واقع بابا پیٹرول پمپ پر انہوں نے اپنی موٹر سائیکل میں ایندھن بھرانے کے لیے توقف کیا۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ لمحہ ان کی زندگی پر غم کا سیاہ سایہ بن کر چھا جائے گا۔
ایندھن بھرواتے وقت تین سالہ شیخ سیان موٹر سائیکل سے نیچے اتر گیا۔ والدین کی توجہ چند لمحوں کے لیے دوسری جانب ہوئی تو وہ پمپ کے احاطے میں آگے بڑھ گیا۔ اسی دوران سامنے سے ایک کار آ رہی تھی۔ پلک جھپکتے ہی پیش آنے والے اس حادثے میں کار کی ٹکر لگنے سے سیان شدید زخمی ہو گیا اور خوشیوں بھرا ماحول چند سیکنڈ میں ماتم میں تبدیل ہو گیا۔
حادثے کے فوراً بعد خواتین نے چیخ و پکار شروع کر دی۔ اپنے لختِ جگر کو خون میں لت پت دیکھ کر ماں بے قابو ہو گئی۔ پیٹرول پمپ کے ملازمین اور مقامی شہریوں نے فوری طور پر زخمی بچے کو اسپتال پہنچایا، لیکن ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا۔
بچے کی موت کی خبر سنتے ہی اہلِ خانہ پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ حادثے کے بعد کچھ وقت تک پیٹرول پمپ پر افراتفری کا ماحول رہا۔ ابتدائی طور پر کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ حادثہ کیسے پیش آیا، تاہم پمپ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد پوری حقیقت سامنے آ گئی۔ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ معصوم بچہ اچانک گاڑیوں کے قریب سے آگے بڑھ گیا تھا، جس کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا۔
یہ دل سوز واقعہ والدین کے لیے ایک اہم سبق بھی ہے کہ پیٹرول پمپ، سڑکیں، پارکنگ ایریاز اور دیگر ایسی جگہیں جہاں گاڑیوں کی آمدورفت زیادہ ہوتی ہے، وہاں چھوٹے بچوں پر مسلسل نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ اس طرح کے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
حادثے میں ملوث کار نمبر MH 49 BW 2588 کو اتوارہ پولیس نے تحویل میں لے کر پولیس اسٹیشن میں کھڑا کر دیا ہے۔ تاہم خبر لکھے جانے تک اس معاملے میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا، کیونکہ متوفی معصوم شیخ سیان کے اہلِ خانہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ بچے کی تدفین اور آخری رسومات کے بعد باقاعدہ شکایت درج کروائیں گے۔
موصولہ معلومات کے مطابق حادثے کا سبب بننے والی گاڑی عاکفیہ شاہین جمال حمید خان کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ محکمۂ ٹرانسپورٹ کی ایپ پر دستیاب معلومات کے مطابق مذکورہ گاڑی پر تقریباً 8 ہزار روپے کا جرمانہ بھی بقایا ہے۔ مزید یہ کہ گاڑی کا انشورنس 21 اگست 2025 کو ہی ختم ہو چکا ہے اور اس کی تجدید نہیں کرائی گئی تھی۔
یہ تمام معلومات محکمۂ ٹرانسپورٹ کے ریکارڈ اور متعلقہ ایپ پر دستیاب تفصیلات کے مطابق سامنے آئی ہیں۔ پولیس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے اور اہلِ خانہ کی شکایت موصول ہونے کے بعد قانونی کارروائی متوقع ہے۔