افسوس کہ بی جے پی کو ووٹ چوری میں بھی ہندو مسلم دکھائی دیتا ہے: ہرش وردھن سپکال

ڈاکٹر سمپدا منڈے خودکشی معاملے میں ملوث سابق ایم پی رنجیت نائک نمبالکر کی فوری گرفتار کیا جائے

ججوں کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے، ورنہ 10 نومبر کو ’ورشا‘ بنگلے کا گھیراؤ کیا جائے گا: ادے بھانو چب

ممبئی: ریاست اور مرکز میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی ووٹ چوری کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کی مدد سے کس طرح ووٹوں میں ہیرا پھیری کی، اس کے پختہ ثبوت لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پیش کیے ہیں۔ یہ واقعہ جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس معاملے میں بھی ہندو مسلم کا زاویہ نظر آتا ہے۔ ان کی ذہنی کیفیت اور سیاسی بصیرت پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ شدید ردِعمل مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے دیا۔

تلک بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ووٹ چوری کا معاملہ سب سے پہلے کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی نے اٹھایا تھا اور آج ملک بھر کے اپوزیشن پارٹیاں اسی مسئلے پر آواز بلند کر رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اس معاملے کو مستقل طور پر اجاگر کیا ہے۔ ناگپور کے کامٹی میں کانگریس نے اس موضوع پر ایک زبردست احتجاجی تحریک چلائی تھی، جبکہ دو روز قبل ممبئی میں نکالے گئے مارچ میں بھی پارٹی نے بھرپور حصہ لیا۔ اس مارچ میں کانگریس کے لیڈران، کارکنان اور جھنڈے نمایاں طور پر موجود تھے، لیکن بی جے پی نے اس پر بھی تنقید کی، جو سراسر گمراہ کن اور غیر منطقی ہے۔ سپکال نے کہا کہ میری شرکت کا معاملہ ثانوی ہے، اصل مسئلہ تو ووٹ چوری اور جمہوریت کے ساتھ کی گئی بددیانتی کا ہے۔

یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر سمپدا منڈے خودکشی کیس کو دبانے کی کوشش بی جے پی و مہایوتی حکومت کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے ججوں کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔ چب نے کہا کہ جب حکمراں اتحاد سے تعلق رکھنے والا ایک سینئر لیڈر اس معاملے میں ملوث ہے اور وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے تحقیقات سے قبل ہی سے کلین چٹ دے دی ہے، تو پھر سرکاری افسران غیر جانبدارانہ تفتیش کیسے کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سمپدا منڈے نے رنجیت سنگھ نائک نمبالکر اور پولیس کی ہراسانی سے تنگ آکر خودکشی کی تھی اور اس واقعے کو کانگریس پارٹی نے نہایت سنجیدگی سے لیا ہے۔ اس معاملے پر قومی سطح پر احتجاجی تحریک شروع کی گئی ہے۔ اگر مہایوتی حکومت نے ججوں کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل نہ دی، تو 10 نومبر کو مہاراشٹر پردیش یوتھ کانگریس وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ ’ورشا بنگلہ‘ کا گھیراؤ کرے گی۔ اس احتجاج میں ریاست بھر سے یوتھ کانگریس کے کارکنان اور نوجوان بڑی تعداد میں شرکت کریں گے، جیسا کہ یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر شیو راج مورے نے اعلان کیا۔

یوتھ کانگریس کی ریاستی ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس آج تلک بھون میں منعقد ہوا، جس میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تنظیم کو مزید مستحکم کرنے کی حکمتِ عملی پر بھی غور کیا گیا۔ اس اجلاس میں کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، یوتھ کانگریس کے قومی انچارج منیش شرما، قومی صدر ادے بھانو چب، انچارج اجے چکارا، ریاستی صدر شیو راج مورے، جنرل سیکریٹری پروین کمار برادار سمیت کئی عہدیداران شریک تھے۔

MPCC Urdu News 3 November 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading