NCP-SP Urdu News 3 Nov 25

ڈاکٹر سمپدا منڈے خودکشی معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی کو کلین چِٹ نہ دیں

وزیر اعلیٰ فڈنویس کو سپریا سُلے کی اپیل، انصاف کے مطالبے کے ساتھ حکومت کی بے حسی اور گھٹیا بیانات پر اظہار برہمی

بیڑ: ستارا ضلع کے پھلٹن ضلعی اسپتال میں خدمات انجام دینے والی خاتون ڈاکٹر سمپدا منڈے کی خودکشی کے معاملے نے ریاست میں سیاسی و سماجی سطح پر ہلچل پیدا کر دی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس شردچندر پوار کی قومی سربراہ اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا سُلے نے آج بیڑ میں متوفیہ ڈاکٹر کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے اُن سے تعزیت کی اور ہر ممکن انصاف دلانے کا یقین دلایا۔ اس موقع پر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ بجَرنَگ سونونے اور یوتھ وِنگ کے ریاستی صدر و ترجمان محبوب شیخ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپریا سُلے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی کو بھی کلین چِٹ نہ دی جائے اور متاثرہ خاندان کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے۔

سپریا سُلے نے اس موقع پر کہا کہ اس معاملے میں حکومت کی جانب سے دیے جا رہے غیر حساس اور گھٹیا بیانات نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ ہیں۔ ڈاکٹر سمپدا منڈے مہاراشٹر کی باصلاحیت بیٹی تھیں اور انہیں انصاف ملنا ہی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا ہو گیا ہے کہ حکومت اس کیس کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن جب تک متاثرہ خاندان کو انصاف نہیں ملتا، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ فڑنویس کی جانب سے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کے اعلان کا میں خیرمقدم کرتی ہوں، لیکن جب ہم نے اس کا آرڈر دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ دراصل مکمل ایس آئی ٹی نہیں ہے۔ لہٰذا میری ہاتھ جوڑ کر وزیر اعلیٰ سے گزارش ہے کہ متاثرہ خاندان کے مطالبے کے مطابق ایک حقیقی ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے، جس میں ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کو شامل کیا جائے، تاکہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ ہوں اور کسی بھی سیاسی دباؤ کے بغیر انصاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ایک مظلوم خاندان کو انصاف ملے اور ہم اس معاملے کی خود نگرانی کرتے رہیں گے۔

سپریا سُلے نے سی ڈی آر رپورٹ کے افشا ہونے پر بھی شدید ناراضی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ مخصوص لوگوں تک ہی کیسے پہنچی؟ یہ الزام تراشی کا سلسلہ کہاں سے شروع ہوا؟ یہ گندا کھیل مہاراشٹر کی سیاست میں کب سے داخل ہوا؟ تحقیقات ہونے دیجیے، پھر اتنی عجلت کیوں؟ انہوں نے کہا کہ معاملے کی مکمل شفاف جانچ ہونی چاہیے اور جو بھی مجرم پایا جائے، خواہ وہ کوئی بھی ہو، اسے سزا ضرور ملنی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ کسی کو بھی قبل از وقت کلین چٹ نہ دیں، کیونکہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ ایک ذمہ دارانہ منصب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ متاثرہ خاتون کے کردار پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں، وزیر اعلیٰ کو ایسے عناصر کو روکنا چاہیے۔

سپریا سُلے نے کہا کہ رکنِ پارلیمنٹ بجَرنَگ سونونے دہلی جا کر وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کریں گے اور انہیں اس واقعے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے ریاست کے دونوں نائب وزرائے اعلیٰ سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی سیاسی دباؤ میں نہ آئیں۔ مہاراشٹر کی بیٹی کو انصاف ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانیت کے ناطے متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں اور جس نے بھی جرم کیا ہے، وہ خواہ کوئی بھی ہو، اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، کیونکہ انصاف پر سیاسی دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔

NCP-SP Urdu News 3 Nov. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading