بی جے پی نے ریاست میں نفرت کی جو زہریلی بیل اگائی ہے اسے آج اپنے ووٹ سے جڑ سے کاٹ دیں: ہرش وردھن سپکال
مہاراشٹر کو بہار بنانے کی سازش کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں
دیویندر فڑنویس کی انتخابی حکمتِ عملی نے ریاست کو عدمِ تحفظ میں دھکیل دیا
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے ریاست کے سیاسی حالات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اور وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے مہاراشٹر کے ماحول کو دانستہ طور پر آلودہ اور پرتشدد بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مہاراشٹر کو بہار جیسی صورتحال میں ڈھکیلنے کی نیت سے جو انتخابی حکمتِ عملی تیار کی گئی، اس کے نتائج آج پوری ریاست بھگت رہی ہے۔ سپکال نے عوام سے اپیل کی کہ بی جے پی اور اس کی قیادت نے جو نفرت اور تشدد کی زہریلی بیل بوئی ہے، اسے اب پہچانیں اور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں اپنے ووٹ سے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔
کانگریس صدر نے کہا کہ حالیہ انتخابی عمل کے دوران ریاست میں تشدد کے کئی سنگین واقعات پیش آئے ہیں، جو جمہوریت کے لیے نہایت خطرناک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 1 میں کانگریس امیدوار کے شوہر پر نامعلوم افراد نے تلوار سے جان لیوا حملہ کیا۔ اسی طرح سولاپور میں ایک امیدوار کا قتل ہوا، جبکہ اکوٹ اور کھالاپور میں بھی قتل کی وارداتیں سامنے آئیں۔ متعدد امیدواروں اور ان کے اہلِ خانہ کو دھمکیاں دی گئیں، جس کی تازہ مثال ناندیڑ میں دیکھنے کو ملی۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ تشدد کا نشانہ بننے والے یہ تمام امیدوار اپوزیشن پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں، جو آج اقتدار میں بیٹھے غنڈہ عناصر اور بدعنوان گٹھ جوڑ کے خلاف میدان میں اترنے کی ہمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جمہوری طریقے سے الیکشن لڑنا اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہی ان امیدواروں کا قصور ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس اس سوال کا جواب مہاراشٹر کے عوام کو دیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حالیہ میونسپل انتخابات میں عوام نے کانگریس پارٹی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی بنایا۔ عوام نے کانگریس کے 41 صدرانِ بلدیہ اور 1006 کونسلر منتخب کیے، جبکہ تقریباً 2000 نشستوں پر کانگریس دوسرے نمبر پر رہی۔ سپکال نے کہا کہ یہی اعتماد اب میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بھی دہرانا ہوگا اور کانگریس امیدواروں کو واضح اکثریت سے کامیاب بنانا ہوگا۔ کانگریس صدر نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی لالچ، دباؤ یا خوف کا شکار ہوئے بغیر ووٹ ڈالیں اور جمہوریت و آئین کے تحفظ کے لیے کھل کر کانگریس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ ریاست کے مستقبل اور جمہوری اقدار کو بچانے کی لڑائی ہے۔
واشم ضلع میں کسان کو جوتوں سے مارنے والے متکبر زرعی افسر سچن کامبلے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: نانا پٹولے
ممبئی: مہاراشٹر کانگریس کے سابق ریاستی صدر اور رکنِ اسمبلی نانا پٹولے نے واشم ضلع کے گوگری علاقے میں پیش آنے والے ایک نہایت شرمناک واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ منریگا اسکیم کے تحت سنگترہ باغبانی کی سبسڈی میں تاخیر کے بارے میں سوال کرنے پر کسان کو بوٹوں سے مارنے والے متکبر زرعی افسر سچن کامبلے کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے، نیز متاثرہ کسان کو بلا تاخیر انصاف فراہم کیا جائے۔
نانا پٹولے نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واشم ضلع کے منگرول پیر تعلقہ کے زرعی افسر سچن کامبلے جب گوگری شوار میں معائنے کے لیے پہنچے تو کسان پوار نے ان سے زیرِ التوا سبسڈی کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر افسر نے آپے سے باہر ہو کر کسان پر دوڑ لگائی، اسے بوٹوں سے مارا اور کھیت کی مٹی کے ڈھیلوں سے حملہ کیا۔ یہی نہیں، اس متکبر افسر نے کسان کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی بھی دی۔ نانا پٹولے نے کہا کہ یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ پورے کسان طبقے کے وقار اور خودداری پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیویندر فڑنویس کی حکومت کسان مخالف رویّہ اپنائے ہوئے ہے۔ ایک طرف ریاست کے زرعی وزیر کسانوں کو بھکاری کہہ کر ان کی توہین کرتے ہیں، دوسری طرف اقتدار میں شامل بعض لیڈر کسانوں اور ان کے اہلِ خانہ کے بارے میں توہین آمیز بیانات دیتے ہیں۔ نانا پٹولے نے کہا کہ جب لیڈر خود تکبر کا مظاہرہ کریں تو افسر شاہی بھلا پیچھے کیسے رہ سکتی ہے۔ آج اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک سرکاری افسر کھلے عام کسان پر تشدد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان پہلے ہی آسمانی آفات اور سلاطینی مصیبتوں کے درمیان پس رہا ہےاوپر سے انتظامیہ میں موجود کچھ متکبر افسران کی دھونس نے انہیں مکمل طور پر بے بس بنا دیا ہے۔ ایک زرعی ملک میں اگر کسانوں کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک ہوگا تو وہ انصاف کے لیے آخر کہاں جائے گیں؟ یہ سوال آج پورے کسان طبقے کے سامنے کھڑا ہے۔
نانا پٹولے نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ کانگریس پارٹی اس واقعے کو ہرگز نظرانداز نہیں کرے گی اور متاثرہ کسان کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی فوری، غیر جانبدار اور جامع جانچ کرائی جائے اور قصوروار افسر کو سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی افسر کسانوں کے ساتھ ایسی گستاخی کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
MPCC Urdu News 14 January 26.docx