ناندیڑ: سید معین کی رہنمائی میں مجلس اتحاد المسلمین نئی سیاسی طاقت بن کر ابھرے گی

ناندیڑ: 13/ جنوری (ورق تازہ نیوز)ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات کے لیے آج آخری دن شہر بھر میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر رہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر انتخابی ریلیوں اور جلسوں کا انعقاد کیا گیا۔ انتخابی مہم کا باقاعدہ اختتام آج شام ساڑھے پانچ بجے عمل میں آیا۔

انتخابی منظرنامے پر اگر کسی جماعت پر عوام کی نظریں مرکوز ہیں تو وہ مجلس اتحاد المسلمین ہے۔ انتخابات سے عین قبل کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے متعدد کارپوریٹروں نے مجلس میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعد ناندیڑ میں مجلس کی سیاسی طاقت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ کانگریس پارٹی اس صورتحال میں کمزور نظر آ رہی ہے۔

ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجلس اتحاد المسلمین کے مہاراشٹر کے سابق صدر جناب سید معین نے ایک منظم اور دور اندیش حکمتِ عملی اختیار کی۔ پارٹی نے ان امیدواروں کو میدان میں اتارا جو زمینی سطح پر عوامی رابطہ رکھتے ہیں، ساتھ ہی برسوں سے پارٹی کے لیے خدمات انجام دینے والے عہدہ داروں کو بھی اس مرتبہ ٹکٹ دیے گئے۔ سید معین کی اس حکمت عملی سے پارٹی کارکنان اور ہمدردوں میں اطمینان اور جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔

اگرچہ ریاست کے بعض دیگر شہروں میں مجلس کی قیادت کے خلاف خود پارٹی کارکنان کی جانب سے ناراضگی کا اظہار سامنے آیا، تاہم ناندیڑ میں سید معین کی قائدانہ صلاحیت اور مؤثر حکمت عملی کے باعث انتخابی مہم منظم انداز میں چلائی گئی اور امیدواروں میں ٹکٹوں کی منصفانہ تقسیم عمل میں آئی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق انہی وجوہات کی بنیاد پر یہ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین ایک مضبوط سیاسی طاقت بن کر ابھر سکتی ہے۔ اس مرتبہ مجلس نے ناندیڑ میں اپنے ۳۷ امیدوار میدان میں اتارے ہیں اور یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ کارپوریشن میں مجلس ایک اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

مجلس کی انتخابی مہم کو تقویت دینے کے لیے قومی صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی نے دو مرتبہ ناندیڑ کا دورہ کیا اور مختلف جلسوں سے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ حیدرآباد سے رکن اسمبلی جناب کوثر محی الدین اور دیگر مجلس کارپوریٹرس بھی ناندیڑ میں مقیم رہے، جن کی قیادت میں انتخابی تشہیری مہم مؤثر انداز میں چلائی گئی۔

انتخابی مہم کے اختتام کے بعد اب تمام نگاہیں پولنگ ڈے اور عوامی فیصلے پر مرکوز ہو گئی ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading