صفدر امام قادری
سیاسی زندگی کے ہر موڑ پر مایاوتی نے جب جیسے چاہا اور جس سے چاہا سمجھوتے کیے یا وفاداریاں بدلیں مگر ان کے ووٹ کا تناسب بتاتا ہے کہ عوام کا ایک حلقہ ان کے ساتھ ہے، مگر کیوں؟

جیسے ہی مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے انتخابات کے دن قریب ہوتے جارہے ہیں، بہوجن سماجوادی پارٹی کی قومی صدر محترمہ کماری مایاوتی کے بیانات شاہ سرخیوں میں سمانے لگے ہیں۔ وہ آج جو کہتی ہیں، اس سے اگلے دن خود کو بدل لیتی ہیں۔ آج جو ان کا حلیف ہے، بڑی خوشی سے وہ اگلے دن اسے حریف کی طرح پیش کرتی ہیں۔ ہر چند کہ یہ مایاوتی کا پرانا انداز ہے اور وہ پہلے سے بھی کسی بھی پارٹی کے ساتھ مل کر یا ساتھ چھوڑ کر فائدے کے اگلے سفر کے لیے نکلنے کے لیے مشہور رہی ہیں مگر اب جب کہ صوبے کی ایک ایک سیٹ کو لے کر مرکز کی سیاست ہم رشتہ ہورہی ہے اور ہر سوال کے جواب میں ۲۰۱۹ء کے الیکشن کو جوڑا جارہا ہے، ایسی صورت حال میں مایاوتی کے ان بدلتے ہوئے اطوار کو صرف ان کی پرانی عادت پر محمول کرنا مناسب نہیں بلکہ موجودہ سیاست کی نزاکتوں کے پیش نظر اسے نئے تناظر میں دیکھنے اور اس کے معنی منتخب کرنے کی ضرورت ہے۔
بہار کے موجودہ وزیر اعلا نتیش کمار ، گجرات کے سابق وزیر اعلا چمن بھائی پٹیل اور ہریانہ کے بھجن لال کی ہندستانی سیاست میں خاص طور پر اس بات کے لیے یاد کیا جاتا ہے کہ انھوںنے اپنی حکومت قائم رکھنے یا عہدے کے حصول کے لیے پارٹیاں کچھ اس طرح سے بدلیں یا اس انداز سے سمجھوتے کیے جس کی ہندستانی سیاست میں پہلے سے کوئی نظیر نہیں تھی۔ وعدہ کرنا اور وعدہ توڑ دینا، اعلان کرنا اور اعلان سے مکر جانا جیسے اطوار میں ان سیاست دانوں کو صرف مایاوتی سے ہی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوںکہ مستقبل کا مورخ ہی حتمی طور پر یہ فیصلہ کر سکے گا کہ ان میں سے کون ہندستانی سیاست میں اخلاقی پستی کا بڑا اور بُرا نمونہ ثابت ہوگا۔ مایاوتی نے کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی اور سماج وادی ؛ تمام پارٹیوں سے حسبِ ضرورت رشتے پیدا کیے اور حسب ضرورت انھیں توڑے۔ صوبائی سطح سے اوپر اٹھ کر قومی سیاست کا رخ کرتے ہیں تو وہ یو۔پی۔اے۔ اور این۔ڈی۔اے۔ دونوں طرف آتی جاتی رہی ہیں۔ اس میں ایسا ہوا کہ کبھی صدر کے انتخاب میں انھوںنے پالا بدل لیا یا پارلیامنٹ میں کوئی ایسا کھیل کھیل دیا جس سے وفا توڑنے کا ان کا انداز قائم رہا۔ مایاوتی مرکزی سطح پر جس فرنٹ میں بھی رہنے کا سوچ رہی ہوں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ علاقائی سطح پر بھی اپنے آزادانہ وجود کے لیے اس فرنٹ سے دو دو ہاتھ کرنے میں بھی پیچھے نہیں ہوتیں۔
کیا مایاوتی کا ابھی یو۔پی۔اے۔ سے الگ ہوکر تین ریاستوں میں کانگریز کے خلاف لڑنے کا فیصلہ صرف ان کی اپنی عادت کا حصہ ہے یا اپنی پارٹی کو قومی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا قدم ہے یا کانگریس سے کسی سودے بازی کی مہم ہے یا پس پردہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے مل کر کانگریس کی طاقت کو کمزور کرنے یا وہاں کی فرقہ پرست حکومتوں کو پھر سے اقتدار میں لانے کی کوئی کوشش تو نہیں؟ یہ سوالات اس لیے بے حد اہم ہیں کہ اب آئندہ پارلیامنٹ کی قومی سطح پر تیاری شروع ہوچکی ہے اور چھے مہینے سے ذرا زیادہ ہی انتخابات کی تاریخ بچی ہے۔ یعنی آج کے ہر سیاسی قدم کو آئندہ دلی میں قائم کی جانے والی حکومت سے جوڑ کر دیکھا جائے گا۔ ابھی کے حالات ایسے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی تینوں ریاستوں میں حکومتوں پر مشکل دور آیا ہوا ہے اور سیاسی مبصرین یہ بات اپنے تجزیے کے بعد کھلے بندوں کہہ رہے ہیں کہ تینوں ریاستوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا صفایا ہوجائے گا۔ ایسی حالت میں اگر بیس پچیس جگہوں پر بھی سہ رخی مقابلہ ہوجائے تو ووٹ کا بٹوارہ ہوگا اور اس کا فطری طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ ملے گا۔ مایاوتی کی پارٹی تو ان ریاستوں میں نہ جیتنے والی ہے اور نہ سرکار بنانے والی ہے مگر اس کی کوشش سے سہ رخی مقابلے ہوسکتے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایسے ہی مقابلوں سے فائدہ حاصل ہوتا ہے ورنہ سیدھے لڑ کر اسے جیتنے کے مواقع بیس پچیس فی صد بھی میسر نہیں آتے۔
تو کیا مایاوتی ان ریاستوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد کرنے والی ہیں ؟ کیا موجودہ مرکزی حکومت سے ان کا کچھ تال میل بیٹھ چکا ہے؟ کیا الگ الگ تینوں صوبائی حکومتوں سے داخلی سطح پر انھوںنے کچھ سمجھوتے کرلیے ہیں؟ یا وہ صرف کانگریس سے اور سیٹیں حاصل کرنے کے سودے میں مبتلا ہیں؟ مایاوتی کے سیاسی کیریر کو دیکھتے ہوئے ان میں سے ہر جواب کے لیے ہندستان کے سیاسی مشاہدین تیار ہیں۔ جب ہماری سیاست کے پیچھے کوئی اصول ہی نہ ہو، قول اور فعل میں کسی طرح کی ہم آہنگی نہ ہو اور عوام کے سامنے ہر دن اپنی بات سے پیچھے ہٹنے یا بھول کر نئی بات کہنے میں جب سیاست دانوں میں شرمندگی نہ ہو تب مایاوتی سے کون امید کرے گا؟ بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ کھیل ہے کہ اگر ان ریاستوں میں وہ جیت جاتی ہے تواسے پارلیامنٹ کے الیکشن تک حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔ بھاجپا کو اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر یہاں ایک دو یا تینوں ریاست میں ہار کا سامنا کرنا پڑا تو آنے والے دنوں میں سڑکوں پر لوگوں کو جواب دینے ہوںگے اور بے وجہ لالی پاپ دے کر لوگوں کو بے وقوف بنانے کا عمل بند کرنا ہوگا ورنہ پارلیامنٹ کا انتخاب ہاتھ سے نکل جائے گا اور نریندر مودی امت شاہ کی جوڑی تاریخ کے نہاں خانے میں دفن ہوجائے گی۔
ایسی صورت حال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہر حال میں نشانہ مایاوتی کی طرف ہی سدھے گا۔ پچھلے پارلیامنٹ کے انتخاب میں ملائم سنگھ کو خرید کر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اترپردیش سے ۷۳؍سیٹیں جیت لی تھیں۔ جس کی وجہ سے اسے مرکز میں حکومت بنانے میں بہت آسانی ہوئی۔ ان تین ریاستوں میں پہلے سے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو پارلیامنٹ میں بھرپور سیٹیں ملی ہوئی ہیں۔ اس کے قائم رہنے پر ہی آئندہ مرکزی حکومت کو استحکام مل سکتا ہے۔ اس لیے پہلا نشانہ یہی ہے کہ اسمبلی میں تین ریاستوں میں مایاوتی کو سمجھوتے میں داخل نہ ہونے دیا جائے اور سہ رخی مقابلوں کی بدولت کانگریس کمزور ہو اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم رہ جائے۔ اس نیک کام کے لیے مایاوتی اس لیے بھی موزوں ہے کہ تاج کوریڈور گھوٹالے سے مایاوتی کو بچے رہنا ہے اور لالو یادو کی طرح سے جیل میں بند ہوجانے سے محفوظ رہنا ہے۔ آج کی تاریخ میں سی۔بی۔آئی۔ اور مرکز کی ایجنسیاں سب بھاجپا کے ہاتھ میں ہے، اس لیے مایاوتی کو وہی لوگ بچاسکتے ہیں اور اس کے بدلے میں الیکشن کے اخراجات کے نام پر اربوں کھربوں کے وارے نیارے ہوسکتے ہیں۔
ہندستانی سیاست کی ایک خوبی کہی جاتی رہی ہے کہ پچھلے پچیس تیس برسوں میں شمال سے لے کر جنوب تک کوئی ایک موضوع اور مدعا کارگر ثابت نہیں ہوا جس کی وجہ سے سیاست میں کچھ نہ کچھ توازن کی صورت حال قائم رہتی ہے۔ اسی وجہ سے ریاستوں میں اور مرکز میں بھی ادلا بدلی کا ماحول ہے۔ چمن بھائی پٹیل اور بھجن لال کے مرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب ہندستانی سیاست میں بے غیرت اور بے شرم انداز میں فیصلے لینے والے بڑے لیڈر نہیں ہیں مگر کماری مایاوتی اور اب نتیش کمار بھی اسی راستے کے مسافر ہیں۔ ان کی طاقت یہ ہے کہ بنے ہوئے سیاسی کھیل تماشے کو بگاڑ سکتے ہیں اور اپنے فائدے کے لیے کسی کے ساتھ سمجھوتے کرسکتے ہیں۔ بڑی طویل مدت سے فرقہ پرست اور غیر فرقہ پرست کی ایک لکیر کھینچی ہوئی تھی مگران دونوں نے دائیں بائیں اتنی بار چھلانگ لگائی کہ اب سفید و سیاہ جیسی کوئی دوری کم از کم ان کے لیے نہیں ہے۔ دیوار پر لکھی عبارت کی طرح ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ صرف ان تین ریاستوں کی بات نہیں، آنے والے وقت میں پارلیامنٹ کے لیے پھر سے جب گروہ بندیاں شروع ہوںگی، اس وقت ایک اور بڑا ناٹک کھیلا جائے گا۔ اندازہ یہی لگتا ہے کہ ایک یا دو بار یہ دونوں پالے بدلیں گے۔ مایاوتی کے موجودہ فیصلے کو صرف کانگریس سے سودے بازی سمجھنا ہماری بھول ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ آئندہ کی پارلیمانی انتخاب کی حتمی گروہ بندی کی رکاوٹوں سے اسے جوڑ کر دیکھنے اور اس کے تمام پہلوئوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ان دونوں کے سیاسی اطوار یہ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کھیل بنانے اور بگاڑنے دونوں کا ہنر معلوم ہے اور ہم دونوں کی پوری پوری قیمت وصول کرتے ہیں۔ کتابوں میں لکھی ہوئی سیاست کے بارے میں اچھی اچھی باتیں آپ بھول جائیے، اب مفاد کے کھلے کھیل کھیلنے والے سیاست دانوں کا زمانہ ہے اور اصول ، اخلاقیات، آئین ساز اسمبلی اور مجاہدین آزادی کے خواب یا شہیدوں کے خون کو مت یاد کیجیے، اب قربانی کا بدلہ لینے اور سب کے حصے کا فائدہ اٹھانے والے کھلاڑی سیاست کے مرکزی منچ پر اپنا آخری دائوں کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔