نئی دہلی ۔( پریس ریلیز)۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں 15دسمبر2018کو مصلح سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان ہوئے مصلح تصادم کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کی وجہ 7عام شہریوں کی ہلاکت اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کے المناک واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری محمد شفیع نے اپنے اخباری اعلامیہ میں کشمیر میں ہوئے انکاؤنٹر میں عام شہریوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس انکاؤنٹر کی وجہ سے 7عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس واقعہ پرانہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ یہاں کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے اور حکومت عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ اور مقامی لوگوں کے خلاف جنگ کے درمیان فرق کرنے اور جواز پیش کرنے میں حکومت مکمل طور پر کیوں ناکام ہے؟۔ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری محمد شفیع نے مزید کہاہے کہ ہندوستانی حکومتیں سیکورٹی فورسز کا غلط استعمال کرکے اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے بے گناہ افراد کو قتل کرنے کیلئے جانی جاتی ہیں تاکہ انہیں ہندوتوا اکثریت کی ووٹ حاصل ہوسکے۔سن 1980-90میں ریاست پنجاب کے سکھوں کو اس طرح ظلم وستم کا سامنا کرنا پڑا تھا اس دوران ہزاروں معصوم افراد ہلاک ہوئے تھے اور اب کشمیر اس طرح کی بربریت کا شکار ہے اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے معصوم افراد ہلا ک ہورہے ہیں۔ محمد شفیع نے کشمیر ہلاکتوں کے واقعہ کو فوج کی خالص فرقہ وارانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹر ی محمد شفیع نے حالیہ اتر پردیش کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتر پردیش میں مبینہ طور پر گایوں کی ہلاکت کے خلاف ہوئے ایک احتجاج میں ایک پولیس افسر کو کھلے عام گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا اور اس معاملہ میں پولیس چیف مجرموں اور اس حملے کے پیچھے چھپی مجرمانہ تنظیم کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔جبکہ کشمیر میں وہ احتجاجی مظاہرین جو سیکورٹی فورسز کی جانب سے انسانوں کے قتل کئے جانے کے خلاف احتجاج کررہے تھے ان کو سیکورٹی فورسز نے گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کشمیر میں اپنی پالیسی کو نافذ کررہے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری محمد شفیع نے حکومتوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کے دوہرے رویے کیوں اختیار کررہے ہیں ؟۔ کیا اس لیے کہ مارے جانے والے افراد مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں؟۔کیا کسی کے گھر کے سامنے کھڑا ہونا قانون کی خلاف ورزی ہے؟۔جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں لوگ ریزرویشن یا محض ایک فلم ( پدماوت) کے معاملے میں سڑکوں پر اتر آتے ہیں ہزاروں کروڑ روپئے کی قومی ملکیت کو آگ لگا دیتے ہیں۔اس وقت یہ نام نہاد قوم پرست کیوں خاموش رہ جاتے ہیں؟۔محمد شفیع نے اختتام میں کہا ہے کہ ہزاروں میل دو ر بیٹھ کر فوج کی ہر غلطی کی حمایت کرکے اپنے آپ کو قوم پرست ثابت کرنے کی کوشش کرنا سراسر انسانیت کی خلاف ورزی ہے۔