واشنگٹن:(ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’بات چیت اور حتمی نکات، تصوراتی اور تفصیلی دونوں سطحوں پر، تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے منظور کر لیے گئے ہیں، جن میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر شامل ہیں۔‘تاہم انھوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اس وقت تک مکمل طور پر برقرار رہے گی جب تک یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا۔’دستخط کے وقت اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔‘ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کے بیان پر تاحال کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
امریکی حملوں کا ’پہلے سے کہیں زیادہ سخت‘ جواب دیں گے:
ایرانی جوائنٹ ملٹری کمانڈ
ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف مزید حملے کرنے کی کوشش کی تو اسے ’پہلے سے کہیں زیادہ سخت‘ جواب دیا جائے گا۔اس کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک جانب معاہدے کی بات کرتا ہے مگر دوسری جانب جارحانہ اقدامات کرتا ہے اور یہ ایک ’کھلا تضاد‘ ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ آج رات ایران پر ’بہت سخت‘ حملہ کرے گا۔انھوں نے ’مستقبلِ قریب‘ میں ایران کی تیل اور گیس کی مارکیٹس پر ’مکمل کنٹرول حاصل کرنے‘ کا عزم بھی ظاہر کیا۔ٹرمپ کی ان دھمکیوں کے بعد ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے خبردار کیا کہ ’یا تو تیل اور گیس کی برآمدات سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے نہیں ہوں گی۔‘
ڈیپ فیک ویڈیوز اور جعلی شناخت کے ذریعے دھوکہ دہی، مرکزی وزارت داخلہ کی سائبر ایڈوائزری جاری
نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے ملک بھر کے شہریوں کو مصنوعی ذہانت پر مبنی بڑھتے ہوئے سائبر جرائم سے خبردار کرتے ہوئے ایک تفصیلی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ وزارت کے مطابق سائبر مجرم اب جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے انتہائی حقیقی نظر آنے والی ڈیپ فیک ویڈیوز اور جعلی شناختیں تیار کر رہے ہیں، جن کے ذریعے مالی اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مجرم مصنوعی ذہانت کی مدد سے مختلف حفاظتی نظاموں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر سکتے ہیں اور مالیاتی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ وزارت کے مطابق ڈیپ فیک ویڈیوز اور مصنوعی شناختوں کا استعمال چہرے کی تصدیق، لائیونیس جانچ، ویڈیو کے وائی سی، اکاؤنٹ کی بحالی اور مختلف مالیاتی و ڈیجیٹل خدمات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔وزارت داخلہ نے خبردار کیا کہ سائبر دھوکہ باز عموماً سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم، ملازمت کے پورٹل، آن لائن تعلقات کے پلیٹ فارم یا فون کالز کے ذریعے لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان کا مقصد متاثرہ افراد کی چہرے سے متعلق معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگوں کو کیمرے کے سامنے پلک جھپکانے، سر گھمانے یا چند الفاظ بولنے جیسی معمولی حرکات کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، جس کے بعد حاصل شدہ معلومات کو جعلی شناخت یا ڈیپ فیک مواد تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دہلی پولیس نے ’پے ٹی ایم‘ کے وائی سی کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے سائبر گروہ کا کیا پردہ فاش، تین گرفتار
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی جعلی شناختیں روایتی حفاظتی اقدامات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔ ایسے میں مالیاتی اداروں، مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ تنظیموں کو اپنے حفاظتی نظام مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مشتبہ سرگرمیوں اور ڈیپ فیک مواد کی بروقت شناخت ممکن ہو سکے۔
وزارت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی بایومیٹرک معلومات اور ذاتی ڈیجیٹل معلومات کو محفوظ رکھیں، مشتبہ لاگ اِن کوششوں پر فوری توجہ دیں اور اپنے بینک کھاتوں یا دیگر مالیاتی خدمات سے متعلق برقی ڈاک اور مختصر پیغام کی اطلاعات پر مسلسل نظر رکھیں۔