امریکی صدر کا ایران پر دوبارہ ’سخت حملہ‘ کرنے کا اعلان، خارگ جزیرے کا کنٹرول سنبھالنے کی بھی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج رات پھر ایران پر ’بہت سخت حملہ‘ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے خارگ جزیرے کا کنٹرول سنبھالنے کا عندیہ دیا ہے۔ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’امریکہ آج رات ایران پر بہت سخت حملہ کرے گا۔‘

’مستقبل قریب میں کسی بھی وقت ہم خارگ جزیرے اور آئل سٹرکچر کے دیگر اہم مقامات کا کنٹرول سنبھال لیں گے اور اس کی تیل و گیس کی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے وینزویلا کے ساتھ کیا ہے۔‘

خیال رہے امریکی صدر کی جانب سے ایران پر سخت حملے کے اعلان کے بعد امریکی افواج نے جمعرات کی صبح ایران پر مزید حملے کیے تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان حملوں کو ایران کی ’مسلسل اور بلا اشتعال جارحیت‘ کا ردِعمل قرار دیا۔ دریں اثنا مغربی تہران اور مہرآباد ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سننے کی غیر سرکاری اطلاعات موصول ہوئیں۔ ایران کے شہر کرج کے رہائشیوں نے بھی دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔

اس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا دعویٰ کیا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، آئی آر جی سی نیوی نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو آبنائے سے ’غیر قانونی طور پر گزرنے کا ارادہ‘ کر رہے تھے۔

بعدازاں ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے بتایا کہ بحرین میں پانچویں امریکی بیڑے پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading