لاتور شہر کو پھر آبی قلت کا سامنا’دس یوم بعد آبی سربراہی

 انتظامیہ اور مستقل کمیٹی کے بیانات میں تضاد’عوام تذبذب کا شکار

لاتور(محمدمسلم کبیر) لاتور شہر کو آبرسانی کرنے والے موضع دھنے گاؤں میں واقع مانجرا پروجیکٹ میں امسال بکرش کی کمی کی وجہ سے آبی ذخیرہ ہو نہ سکا اس لئے موسم بارش میں ہی اس پروجیکٹ کی آبی سطح بنیادی دیوار سے نیچے رہی تھی.اور امسال موسم بارش کے اواخر میں ہمیشہ کی طرح برسنے والا بارش بھی برس نہ سکا.جس کی وجہ سے آب رسانی کرنے والے پروجیکٹس میں آبی سطح میں اضافہ ہو نہ سکا.فی الحال مانجرہ پروجیکٹ میں صرف 36 دس لاکھ مربع میٹر مردہ آبی ذخیرہ ہی موجود ہے.اسی پروجیکٹ سے لاتور شہر کو یومیہ 50 لاکھ لیٹر آبی سینچائی کی جاتی ہے.یعنی موجودہ ذخیرہ سے یومیہ 1.5 آبی سینچائی ہوتی ہے. ایک اندازے کے مطابق لاتور شہر کے لئے ماہ جنوری تاجون ان چھ مہینوں میں 9 دس لاکھ مربع میٹر آبی سینچائی مطلوب ہے.اب اس حالت میں شہر لاتور کی پیاس کس طرح بجھائی جاسکتی ہے یہ بڑا مسئلہ لاتور شہر میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کے سامنے آن کھڑا ہے.لیکن برسر اقتدار بی جے پی کے قائدین اس معاملے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  محض بیان بازی کرتے نظر آرہے ہیں.جس سے شہریان لاتور تذبذب میں مبتلا ہیں.
مانجرہ پروجیکٹ میں موجود مردہ آبی ذخیرہ کی آبرسانی نہ صرف لاتور شہر بلکہ کیج،امبہ جوگائی،کلمب،ان تعلقوں کےکچھ علاقوں میں،مروڈ ،لاتور صنعتی علاقے کو بھی آبرسانی کی جاتی ہے.موجودہ ذخیرہ صرف لاتور ضلع کے لئے ہی محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے لاتور میونسپل کارپوریشن انتظامیہ دیگر ذرائع آب کےلئے منصوبہ بندی کررہی ہے.جس میں لاتور شہر کو ھفتہ میں ایک بار کی بجائے ہر دس یوم بعد آبرسانی کرنا، دوران آبرسانی اوقات میں 25 فیصد کٹوتی،غیر مجاز نل کنکشن کٹ کرنا،ٹونٹیاں نہ رہنے والے نلوں کو 500 روپئے جرمانہ لگانا،اور پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے تدابیر کے لئے عوامی بیداری کرنا وغیرہ منصوبے بنائے ہیں.ان منصوبوں پر عمل آوری کے لئے کارپوریشن کے مستقل کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں بحث کروا کے چھ ماہ تک شہرکی آبرسانی میں رخنہ اندازی سے نجات پانے کی کوشش کی جائیگی. جس میں لاتور شہر کے لئے مطلوب 9 دس لاکھ مربع میٹر پانی مہیا کروانے میں آسانی ہوگی.ان منصوبوں پر 10/ دسمبر کے مستقل کمیٹی کی خصوصی اجلاس میں فیصلہ لیےجانے کا اعلان انتظامیہ نے کیا تھا لیکن یہ خصوصی اجلاس منعقد ہو نہ پایا.لہذہ اس معاملے میں کوئی فیصلہ ہنوز ہو نہ سکا. دستیاب اطلاع کے مطابق لاتور شہر کے آبی قلت کے مدنظر 19/ دسمبر کو مستقل کمیٹی کے خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے. تاہم آبی سربراہی میں تخفیف کرنے کے مسئلے پر کارپوریٹرس کے متضاد بیانات اخباروں میں آرہے ہیں.اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مستقل کمیٹی میں پانی کے مسئلے پر کوئی حتمی فیصلے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading