کسانوں کے قرض معافی اور رائیتو بندھو اسکیم پر عمل آوری میں کے سی آر حکومت ناکام

جنگلاتی اراضی کے مسئلہ پر رائونڈ ٹیبل کانفرنس طلب کرنے کا مطالبہ، کودنڈاریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 4 جولائی (سیاست نیوز) آل انڈیا کسان کانگریس قومی نائب صدرنشین ایم کودنڈاریڈی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کسانوں کو قرض معافی اور رئیتو بندھو اسکیم کی رقم جاری کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کودنڈا ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات سے قبل کے سی آر نے کسانوں کے قرض کی معافی کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت کی تشکیل کو 7 ماہ گزرنے کے باوجود آج تک وعدے کی تکمیل نہیں کی گئی۔ 42 لاکھ 36 ہزار 80 کسان قرض کی معافی کے منتظر ہیں جن کا قرض 32266 کروڑ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی کسانوں نے سونا رہن رکھ کر قرض حاصل کیا جس کی رقم 3252 کروڑ ہوتی ہے۔ حکومت کو وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے فوری یہ رقم جاری کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے حصول کے ساتھ ہی کے سی آر عوام سے کیئے گئے وعدوں کو فراموش کرچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رئیتو بندھو اسکیم کی تیسری قسط کسانوں کو جاری نہیں کی گئی۔ صرف چند ایک کسان تیسری قسط حاصل کرچکے ہیں جبکہ کسانوں کی اکثریت ابھی بھی امدادی رقم سے محروم ہے۔ کودنڈاریڈی نے الزام عائد کیا کہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے کسانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے جنگلاتی اراضی کے تنازعہ پر حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کودنڈار ریڈی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مختلف اضلاع میں قبائیلی کسان اور جنگلات کے عہدیداروں میں تنازعہ جاری ہے۔ تلنگانہ میں 66 لاکھ ایکڑ جنگلاتی اراضی ہے جن میں سے 7.5 لاکھ ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں۔ یہ قبضے غریب کسانوں نے نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد نے کئے ہیں۔ 2006ء میں یو پی اے حکومت نے جنگلاتی اراضی پر کاشت کرنے والے کسانوں کو اراضی الاٹ کرنے کا قانون بنایا تھا۔ ٹی آر ایس حکومت اس قانون کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عادل آباد میں خانہ پور کے ٹی آر ایس رکن اسمبلی کے بھائی نے فارسٹ آفیسر پر حملہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی اور قائدین غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ کودنڈا ریڈی نے وزیر جنگلات سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگلاتی اراضی کے مسئلہ پر رائونڈ ٹیبل ک انفرنس منعقد کریں اور اپوزیشن جماعتوں کی رائے حاصل کرتے ہوئے مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے۔ چیف منسٹر نے قبائیلی ارکان کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک یہ اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو قرض کی معافی، رئیتو بندھو امدادی رقم کی اجرائی اور جنگلاتی اراضی جیسے مسائل کی یکسوئی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading