چندی گڑھ:بی جے پی لوک سبھا الیکشن 2024 میں متوقع کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ اب اسمبلی انتخابات کا سامنا کرتے ہوئے بی جے پی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وقت بی جے پی دو ریاستوں ہریانہ اور جموں و کشمیر میں انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ جیسے ہی بی جے پی نے ہریانہ اسمبلی انتخابات کے لیے 67 امیدواروں کی پہلی فہرست کا اعلان کیا، پارٹی میں استعفوں کی لہر شروع ہوگئی ہے۔
اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بدھ کو انتخابات کے لیے پہلی فہرست کا اعلان کیا گیا۔ہریانہ بی جے پی او بی سی مورچہ کے ریاستی صدر اور سابق وزیر کرنادیو کمبوج نے بی جے پی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اندری اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ کٹ جانے کے بعد کمبوج پارٹی سے ناراض تھے۔ انہوں نے پارٹی پر نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
دادری کسان مورچہ کے ضلع صدر وکاس عرف بھلے نے بی جے پی کے رتیا سے رکن اسمبلی لکشمن ناپا نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
بی جے پی یووا پردیش کے ایگزیکٹو ممبر اور اسمبلی الیکشن انچارج امیت جین نے سونی پت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
جے جے پی سے بی جے پی میں شامل ہونے والے سابق وزیر انوپ دھانک کو بی جے پی نے اوکلانا سے ٹکٹ دیا ہے۔ ناراض بی جے پی لیڈر شمشیر گل نے استعفیٰ دے دیا۔
ہریانہ بی جے پی کسان مورچہ کے ریاستی صدر سکھوندر منڈی نے بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔حصار کے رہنما درشن گری مہاراج نے بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
بی جے پی کی سینئر لیڈر سیما گیبی پور نے فوری اثر سے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
بی جے پی نے بدھ کو ہریانہ اسمبلی انتخابات کے لیے 67 امیدواروں کی پہلی فہرست کا اعلان کیا۔ سی ایم نائب سنگھ سینی لاڈوا سے الیکشن لڑیں گے۔ ہریانہ کے اسپیکر گیان چند گپتا پنچکولہ سے، ہریانہ کے سابق بی جے پی صدر اوم پرکاش دھنکھر بدلی سے، سابق اسپیکر کنور پال گرجر جگادھری سے، سابق وزیر داخلہ انل وِج امبالہ کینٹ سے اور سابق ایم پی سنیتا دوگل رتیہ سے الیکشن لڑیں گے۔