ٹریفک جام کے خلاف نیشنلسٹ یوتھ کانگریس کا احتجاج
(آفتاب شیخ)
گزشتہ چند دنوں سے تھانے شہر میں بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہو رہا ہے۔ اس ٹریفک جام کے لیے ٹریفک پولیس کی ناکام منصوبہ بندی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے راشٹروادی یوتھ کانگریس – شردچندر پوار پارٹی کی جانب سے سابق کابینی وزیر ڈاکٹر جتیندر اوہاڑ کی رہنمائی میں ریاستی جنرل سیکریٹری اُمیش اگروال اور ابھیجیت پوار کی قیادت میں احتجاج کیا گیا۔
گزشتہ کچھ دنوں سے تھانہ کے گھوڑبندر روڈ پر ٹریفک جام میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے سے جاری میٹرو ریل کے کام اور پولیس کی ناکام منصوبہ بندی کی وجہ سے یہ ٹریفک جام ہو رہا ہے، اسی الزام کے تحت یہ احتجاج کیا گیا۔ اس دوران مظاہرین نے ٹریفک پولیس کے دفتر کے باہر دھرنا دے کر زوردار نعرے بازی کی۔
اس موقع پر اُمیش اگروال نے کہا کہ تھانے شہر میں ٹریفک کا نظام پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ سُمت نامی ایک بابا کی ہدایت پر شہر میں کئی ڈیوائیڈر لگائے گئے تھے، جس کی وجہ سے تھانے کے شہری ٹریفک جام میں پھنس کر پریشان ہو رہے ہیں۔ اب سڑکوں میں گڑھے اور پولیس کی ناکام منصوبہ بندی کے سبب یہ جام ہو رہا ہے۔ اگر پولیس نے بروقت مناسب منصوبہ بندی نہ کی تو ہم اس معاملے میں عدالت سے رجوع کریں گے، اُمیش اگروال نے خبردار کیا۔
ابھیجیت پوار نے کہا کہ ڈیوائیڈر بابا کی ہدایت پر ٹریفک کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ کیا یہ بابا کوئی بڑا آرکیٹیکٹ ہے؟ شہر کی سڑکوں کے کام شہریوں کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ ٹھیکیداروں کے فائدے کے لیے ہو رہے ہیں۔ ناقص معیار کی وجہ سے سڑکوں میں گڑھے پڑ رہے ہیں۔ نتیجتاً، ٹریفک جام بڑھ رہا ہے، اور ایمبولینس ٹریفک میں پھنسنے کی وجہ سے مریض دم توڑ جاتے ہیں۔ طلباء کی تعلیم اور ملازمین کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت ہی اس کی ذمہ دار ہے، ابھیجیت پوار نے حکومت پر تنقید کی۔
اس احتجاج میں طلباء کے صدر پرفل کامبلے، ابھیشیک پُسالکر، شری کانت بھوئیر، سندیپ ویتال، کُنال بھوئیر، سمیر نیٹکے، وشن گائکواڑ، آشیش واگھ، منیش شرما، دیپک وارٹے، گنیش سوری راو اور دیگر شریک تھے۔
