منافق موسموں کی شوخیاں کچھ اور کہتی ہیں

منافق موسموں کی شوخیاں کچھ اور کہتی ہیں

منافق موسموں کی شوخیاں کچھ اور کہتی ہیں

چمکتی آسماں پر بجلیاں کچھ اور کہتی ہیں

بہت خوش حال ہیں اہلِ وطن، اخبار کہتے ہیں

مگر یہ اُجڑی اُجڑی بستیاں کچھ اور کہتی ہیں

یہ دعوی باغباں کا ہے کہ گلشن سبز ہے لیکن ہ

میں تو سوکھی سوکھی پتیاں کچھ اور کہتی ہیں

یہاں ہر ایک کو یکساں دیا کرتے ہیں حق

لیکن ہماری قوم کی محرومیاں کچھ اور کہتی ہیں

یہ نعرہ کتنا پیارا ہے کہ یہ آزاد بھارت ہے مگر

حق گوئی پر پابندیاں کچھ اور کہتی ہیں

زمانے کے تئیں بدلاؤ، خوش کن امر ہے لیکن

ہمارے ملک کی تبدیلیاں کچھ اور کہتی ہیں

تحفظ عورتوں کو مل گیا ہے مانتا ہوں میں مگر

ان بچیوں کی سسکیاں کچھ اور کہتی ہیں

 

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading