مؤذنین کرام اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانیں

از قلم. مولانا امتیاز اقبال صاحب

(استاد حدیث مدرسہ بیت العلوم، ومدیر اعلی اخبار نوید شمس)

اذان شعائر اسلام میں سے ہے، اسلام کی سب سے بڑی دعوت او رمؤذن اللہ کی طرف بلانے والااصل داعی ہے ، جو پانچ وقت اللہ کی طرف بلانے کافریضہ انجام دیتاہے ، بلاشبہ احادیث میں مؤذن کے بڑے فضائل وارد ہوئے ہیںاورہونے بھی چاہییں ، اس لیے کہ وہ براہِ راست دعوت کاکام انجام دے رہاہے ، مؤذنین کے فضائل کثرت سے روایات میں وارد ہوئے ہیں ، لیکن جو فضائل وارد ہوئے ہیں وہ تب ہی ان کے حق میں پورے ہوں گے جب اذان کا فریضہ شریعت و سنت کے مطابق انجام دیا جائے۔ آج کل مؤذنین اور ان کےتعلق سے عوام الناس اور ذمہ داران مساجد کا کیا معاملہ ہے جانیئے’’ صاحب کتاب المسائل ‘‘کی اس تحریر سے، فرماتے ہیں ۔

"عام طورپر مساجد میںایسے مؤذن رکھے جاتے ہیں جن کی معاشرے میں کوئی وقعت نہیں ہوتی، اپنے اوپر خواہ کتنی ہی فضول خرچی کرلیں، مگر مسجدوں کے لیے سستے سے سستا مؤذن ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی ہے، خواہ وہ کیسی ہی غلط اذان دے یااسے مسائل اذان کاعلم ہو یانہ ہو، ہوناتو یہ چاہئے کہ اذان ایسی پُر کشش ہوکہ سوئے ہوئے لوگ جاگ جائیں ،اور اس کی آواز سے رگ میں سنسنی دوڑ جائے، اور بے اختیارقوم مسجد کی طرف چل پڑے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیرمسلم بھی اسے سن کرٹھٹھک کر رہ جائیں ، مگر ہمارے یہاں اذان اس طرح دی جاتی ہے کہ نہ اس میں کوئی سوز و گداز ہوتاہے ، اور نہ کسی روحانی کشش کا شائبہ بلکہ محض ایک رسم کی ادائیگی کے طورپر اس عمل کو انجام دے کر اطمینان کر لیا جاتاہے ۔مؤذن حضرات نہ صرف یہ کہ اذان کے مدوں میں حدود سے تجاوزکرتے ہیں، بلکہ بہت سے مؤذن حضرات تو صراحتہً غلط تلفظ سے اذان دیتے ہیں ، مطلب بالکل خبط ہوکررہ جاتاہے ، مثلاً اللہ اکبر کے الف کو کھینچ کر پڑھنا اوراشھدکو آشھدپڑھنا وغیرہ غلطیاں عام ہیں۔ جن کی اصلاح ضروری ہے ۔

کہاجاتاہے کہ دنیامیں سب سے پہلی اذان ہندوستان میںدی گئی ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے سب سے پہلی اذان دی جبکہ وہ جنت سے اترے تھے ،(بحوالہ : السعایہ ص۳، ج ۲)
علامہ شعرانی نے کشف الغمہ میں بھی ایک روایت اسی مضمون کی بیان کی ہے ۔ نیز آپ ﷺ نے بھی اذان دی ہے ،ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺنے ایک مرتبہ اذان دی ۔(بحوالہ کنز العمال ص ۳۴۱، ج ۸ ،مسند احمد، ترمذی ص ۹۴ ) یعلی ابن مرہؒ نے بھی روایت کی ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ سفرمیںسواری پربیٹھے بیٹھے اذان دی ہے ۔ علامہ عینی ؒ نے بھی ترمذی کی اس حدیث کو عمدۃالقاری میں ذکر کیاہے ۔بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ ’’اذان ‘‘ امامت سے بھی افضل ہے ، ابو غالب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ مؤذن مسلمانوں کی نماز کے ذمہ دار ہیں اور ان کے ضامن ہیں اورمجھے اذان ، امامتسے زیادہ محبوب ہے ۔ (سنن کبریٰ ص ۴۳۳، ج :۱)
اس حدیث میں آپﷺنے اذان کی افضلیت کو تسلیم کیا ہےاس سے اس کا افضل ہونا معلوم ہورہاہے،حافظ ابن حجرؒ نے ذکرکیا کہ محدث رافعی احادیث سے اذان کی افضلیت پر استدلال کیاہے، بیہقیؒ نے باب فضل الناذین علی ا لائمہ قائم کیاہے ، شرح احیاء میں ہے کہ علامہ نوویؒ نے اذان کوامامت پر افضل قرار دیاہے ، قول فیصل کے طورپرعلامہ فرنگی محلیؒ نے سعایہ میں دونوں کوبرابر قراردیا ہے ۔ مؤذن کی تنخواہ میں شدید اختلاف ہونے کی وجہ سے مؤذن کو چاہئےکہ مسجد کی دیگرخدمات بھی کرلیاکرے اورنیت کرے کہ تنخواہ خدمت کی ہے اور اذان للہ دے رہاہے ، ابو محذورہ ؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے تقریباً ۲۰ آدمیوں کو اذان دینےکاحکم فرمایا ان لوگوں نے اذان دی ،آپ ﷺ کو ابو محذورہؓ کی اذان پسند آئی توآپ ﷺ نے ان کواذان سکھائی ۔ ( دارمی ۲۷۱)اس لیے فقہاء نے اچھی آواز والے مؤذن کو بہتر قرار دیا ہے ، مگر گانے کی طرح اذان دینے والانہ ہو، ایسی اذان ممنوع ہے ۔عمر ابن عبدالعزیز ؒ نے ایک مؤذن سے فرمایا اچھی طرح اذان دو ورنہ اذان کی خدمت سے ہٹادوں گا ۔(طحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۱۰۵) مؤذن کی ذمہ داری ہے کہ وقت ہوتےہی اذان دے ، حضرت جابر بن سمرۃ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت بلالؓ اذان کے وقت سے مؤخر نہیں کرتے تھے ۔(ابن ماجہ ص ۵۲) اور یہ اہتمام خاص کر کے مغرب اور فجر میں کرے اس لیے کہ عوام الناس سحری وافطار اور نمازوں میں مؤذن کی اذان کا اعتبار کرتے ہیں ،اسی لئے حدیث میں ہے کہ مؤذن لوگوں کی نماز اور روزہ کا ذمہ دار ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا بلاوضو اذان نہ دی جائے۔ (سنن کبریٰ ص ۳۹۷، ) سنت ہے کہ بلا وضو اذان نہ دی جائے ،اس لیے کہ وہ نماز میں سے ہے ،اس سے نمازکاافتتاح ہوتاہے ،لہٰذا بلاوضو اذان نہ دی جائے ۔(مصنف ابن عبدالرزاق ص۴۶۶)

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیںکہ بلند آواز سے اذان دیاکرو جس کو یہ آواز پہنچے گی وہ تمہارے لیے گواہی دیں گے (ابن ابی شیبہ ص۲۲۶: ج ۱) بلند آواز سے اذان دینا سنت ہے۔ اذان کے کلمات کے آخر میں سکون ہے ، حضرت ابراہیم نخعیؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ اللہ اکبر کے آخر میں سکون پڑھتے تھے ( بحوالہ کنز العمال : ۳۵۱، ج ۸) علامہ شامیؒ لکھتے ہیںکہ اذان کادوسرا کلمہ ’’اللہ اکبر ‘‘ ساکن پڑھاجائے گا پیش پڑھناغلط ہے ، اور پہلے کلمہ تکبیر میں راکوزبر دیا جائے گا اس پر ضمہ پڑھنا خلاف سنت ہے ۔ (الشامیہ : ۳۸۶ ج : ۱) اسی طرح الفلاح کی حاء ساکن ہوگی ،اور اقامت میں قد قامت الصلوٰۃ کی تاء ساکن ہوگی اسی طرح بعض لوگ قد قامت کی تاءکے پیش کو ظاہرکرتے ہیں ، بعض لوگ حی علی الصلوٰۃمیں تاء پر زیر پڑھتے ہیں یہ بھی غلط ہے ۔ (بحوالہ سابق ) اذان مسجدکے باہر دینا مستحب ہے۔حضرت عبداللہ ابن سفیان سے مرسلا مروی ہے کہ سنت یہ ہے کہ اذان منارہ پر ہو، (اعلاء السنن ص 121 ج 2) اس سے معلوم ہوا کہ کہ عین مسجد (مسجد کا اصلی حصہ جہاں سے جماعت ہوتی ہے) سے ذرا ہٹ کر اذان دی جائے، فتاوی عالمگیری میں ہے کہ مؤذن عاقل، سمجھدار، نیک، پرہیزگار، اور عالم بالسنہ ہونا چاہیے، آگے یہ بھی ہے کہ فاسق کی اذان مکروہ ہے، لہذا جاہل، داڑھی منڈے اور فاسق کو مؤذن نا بنایا جائے یاد رہے، فاسق ایسے شخص کو کہتے ہیں جو کسی گناہ کے حوالے سے مشہور ہو کہ وہ ایسا گناہ کرتا ہے، کبیرہ کے مرتکب اور صغیرہ پر اصرار کرنے والے کو بھی فاسق کہتے ہیں، بعض اوقات کچھ لوگ شوق میں اذان دینے پر اصرار کرتے ہیں، کچھ لوگ صرف جمعہ کی اذان شوقیہ دیتے ہیں، ان لوگوں پر بھی ان ہی شرائط کا اطلاق ہوگا، فتاوی رحیمیہ میں ایک سوال جواب مذکور ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سنیما اور فلم دیکھنے والے شخص جو کافی مدت سے مؤذن ہے، اس کو رکھا جائے یا نہیں؟؟؟ مفتی عبدالرحیم صاحب رح نے جواب دیا کہ مذکورہ مؤذن اگر صدق دل سے توبہ کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ معزول کردینا ضروری ہے اگر ٹرسٹیان معزول نہ کریں تو گنہگار ہونگے (فتاوی رحیمیہ ص 133، 134 ج 1)اذان کے سلسلے میں ایک بات یہ بھی دھیان میں رکھنا چاہیے کہ اذان آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر دینا مسنون ہے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا، جب اذان دو تو ٹھہر کردو اور تکبیر کہو تو جلدی کہو (ترمذی ص 48،)بحر الرائق میں ہے کہ کلمات کو ادا کرنے کے بعد وقفہ کرے، اور ترتیل سے اذان دینے کی تفصیل میں یہ بھی ہے کہ اذان کے کلمات کو کھینچے اور طول کرے (سعایہ ص 13 ج 2)،وقت سے قبل اگر اذان دے دی گئی ہے تو اس کو لوٹانا ضروری ہوگا، وقت سے قبل اذان دینا مکروہ تحریمی ہے، دیکھا جاتا ہے کہ جن مساجد میں اول وقت نماز پڑھنے کا رواج ہورہا ہے، وہاں اس قسم کی بے احتیاطی وجود میں آرہی ہے، اور اذان کا وقت ہونے سے پہلے ہی بعض اوقات مؤذن اذان دے دیتے ہیں، مغرب کی اذان و جماعت میں فاصلہ خلاف سنت ہے، روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی سنت ہے کہ مغرب کی اذان کے بعد بلا تاخیر خیر مغرب کی نماز پڑھتے تھے(البنایہ ص 227 ج 1مذکورہ باتوں کا خیال رکھا جائے تومؤذن کے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بہتر کام ہوسکتا ہے 29 جنوری 2019 بروز منگل بقر عیدی مسجد میں منعقد ہونے والی تربیتی نشست میں مؤذنین کرام ضرور شرکت کریں اور ٹرسٹیان مساجد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مساجد سے مؤذنین کرام کو اس میں روانہ کریں،

نوٹ :- اس مضمون کی تیاری میں "اذان بلالی” نامی کتاب مؤلفہ مولانا عبدالخالق بیتی سے مدد لی گئی ہے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading