دہلی جل رہی تھی تو سسودیا نے خبر نہیں لی ، اب راکھ کا کر رہے دیدار

گزشتہ ہفتہ جب پیر (23 فروری) کو دہلی میں شعلہ انگیزی شروع ہوئی تھی تو شمال مشرقی دہلی کے کئی متفکر شہریوں نے دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سے گزارش کی تھی کہ وہ پولس کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں پہنچیں اور حالات کو قابو کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن اس دن سسودیا نے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کر لی تھی کہ ’’میں بھی تمھاری طرح بے بس ہوں اور کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ لیکن فرقہ وارانہ تشدد کے 9 دن بعد منگل کو منیش سسودیا علاقے میں پہنچے اور اسی پولس کے ساتھ تباہی کے بعد باقیات اور راکھ میں تبدیل ہو چکی لوگوں کی زندگی کا معائنہ کیا جس کا حال چال لینے میں پہلے انھوں نے آنا کانی کی تھی۔

سماجی کارکن ندیم خان، صبا دیوان اور راہل رائے نے 24 فروری کو شب 10 بجے ہی منیش سسودیا سے رابطہ کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ کچھ ایکشن لیں۔ ندیم خان کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے ان سے اپیل کی تھی کہ آپ ان علاقوں میں تو جائیے جو جل رہے ہیں۔ ہم نے بتایا تھا کہ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے دورہ کے لئےکچھ پولس پروٹوکول ہوتے ہیں، ایسے میں اگر وہ اپنے جانے کا اعلان کرتے ہیں تو پولس خود ہی ان علاقوں میں پہنچے گی۔ ہم نے انھیں یہ بھی بتایا کہ اگر پولس کے ساتھ وہ جائیں گے تو میڈیکل سروس، میڈیا اور سول سوسائٹی کے لوگ بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس سے بھیڑ کو روکا جا سکتا ہے۔‘‘

ندیم خان کا کہنا ہے کہ ان کی بات سننے کے بعد سسودیا نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ اس وقت وہاں جانا درست ہے اور وہ بھی بے بس ہیں۔ لیکن منگل (3 مارچ) کو سسودیا اسی علاقے میں پہنچے جہاں فرقہ واریت کی آگ میں 47 لوگوں کی جان چلی گئی اور 5000 سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے۔

راہل رائے نے اس پورے معاملے میں بتایا کہ ’’ہم سسودیا کے گھر جانے سے پہلے سیلم پور تھانہ اور پولس ہیڈکوارٹر سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سیلم پور تھانہ میں کسی نے ہماری بات نہیں سنی۔ ہم نے فساد والی جگہ جانے کی کوشش کی، لیکن وہاں زبردست پتھراؤ ہو رہا تھا۔ اس کے بعد ہم نے جوائنٹ کمشنر دیویش شرما سے ملاقات کی، لیکن انھوں نے بھی صرف ہمارا وقت ہی برباد کیا۔ ہم نے جوائنٹ سی پی سے فسادات والے علاقوں میں فورس بھیجنے کی اپیل کی، لیکن کچھ نہیں ہوا۔‘‘

اس دوران سسودیا نے سماجی کارکنان کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ کیجریوال نے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل سے بات کی ہے اور جلد ہی کارروائی ہوگی۔ لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ جس وقت سماجی کارکنان سسودیا سے بات کر رہے تھے، تبھی انھیں نورِ الٰہی علاقے سے خبر ملی کہ 8 لوگوں کو گولی مار دی گئی، لیکن پھر بھی نائب وزیر اعلیٰ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ غور طلب ہے کہ 4 دن تک چلے زبردست تشدد میں 47 لوگوں کی جان جا چکی ہے اور 200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading