تین طلاق بل لوک سبھا میں پیش، شوہرکو 3 سال کی سزا کا التزام

نئی دہلی:17ڈسمبر۔(ایجنسیز)تین طلاق کو غیر قانونی اور غیر ضمانتی جرم بنانے سے متعلق ’مسلم خواتین (شادی کے حقوق کی حفاظت)بل2018‘ ا?ج لوک سبھا میں پیش ہوگیا۔ مختلف مسئلوں پر ایوان میں جاری ہنگامے کے درمیان قانون اور انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے وقفہ صفر سے پہلے بل پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔کانگریس کے ششی تھرور نے یہ کہتے ہوئے بل کی مخالفت کی کہ خواتین کا استحصال روکنے جیسے بڑے مسئلوں کے بجائے یہ بل ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے لئے قانون بنانے کے مقصد سے لایا گیا ہے۔ یہ سائرہ بانو معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے اور کیونکہ یہ مخصوص طبقے کے لئے لایا گیا ہے اس لئے یہ ا?ئینی نقطہ نظر سے بھی غلط ہے۔اس کے جواب میں پرساد نے یہ دلیل دی کہ یہ بل مسلم خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لئے لایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ تین طلاق کی روایت کو غیر ا?ئینی ٹھہرائے جانے کے بعد بھی بلا خوف اس پر عمل کیا جارہا تھا۔ اس لئے حکومت مسلم خواتین کے حق میں یہ بل لائی ہے۔ اس کے بعد شور شرابے کے درمیان ہی ایوان نے صوتی ووٹوں سے بل پیش کرنے کی منظوری دے دی۔اس بل میں تین طلاق دینے پر تین سال کی سزا کا التزام ہے۔ اس کے لئے حکومت پہلے ہی آرڈیننس لاچکی ہے۔ تین طلاق کو غیر ضمانتی جرم کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ حالانکہ بیوی کی رضامندی پر ضلع مجسٹریٹ ملزم شوہر کو ضمانت دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی التزام ہے کہ شکایت کا حق متاثرہ بیوی، اس سے خون کا رشتہ رکھنے والوں اور شادی کے بعد بنے اس کے رشتہ داروں کو ہی ہوگا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading