بابری مسجد بنانے والے ملک سے نکل جائیں: وی ایچ پی

جموں:17ڈسمبر۔(ایجنسیز)وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی جانب سے ایودھیا میں بابری مسجد کے متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ ہنس دیو آچاریہ نے کہا کہ جو لوگ ایودھیا میں بابری مسجد بنانا چاہتے ہیں وہ اس ملک سے نکل جائیں۔ انہوں نے جموں وکشمیر کا نام لئے بغیر کہا کہ ہم یہاں دو آئین اور دو جھنڈوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ہنس دیو آچاریہ نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی خوب تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاست میں جنگجو?ں کی حمایت والی سرکار کو نہیں بننے دیا۔ ان کا اشارہ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے حالیہ گرینڈ الائنس کی طرف تھا۔آچاریہ نے کہا کہ گورنر کی جانب سے ریاست میں جنگجو?ں کی حمایت والی سرکار کو بننے سے روکنا جموں وکشمیر میں ہندو توا کی جیت ہے۔ انہوں نے بی جے پی حکومت کے اچھے دنوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اچھے دن کیا ہوسکتے ہیں کہ کشمیر میں پتھربازوں کو مارا جارہا ہے۔ہنس دیو آرچاریہ جموں کے پریڈ گرآنڈ میں اتوار کو وی ایچ پی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ‘دھرم سبھا (مذہبی کانفرنس)’ سے خطاب کررہے تھے۔ دھرم سبھا میں سرکردہ ہندو سادھووں اور سنتوں کے علاوہ ہندو مذہب کے سینکڑوں پیروکاروں نے شرکت کی۔ بی جے پی ریاستی صدر رویندر رینہ نے دھرم سبھا کے حاشئے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ‘ہنس دیو آچاریہ جی نے بتایا کہ اگلے سال 31 جنوری کو رام مندر کی تعمیر کا اعلان ہوگا، جس دن آچاریہ جی اعلان کریں گے، اسی دن مندر کی تعمیر شروع ہوگی’۔دھرم سبھا میں اپنی تقریر کے دوران مہمان خصوصی ہنس دیو آچاریہ جو کہ اکھل بھارتیہ سنت سمیتی کے سرپرست بھی ہیں، نے مسلمانوں کی درگاہوں پر اشتعال انگیز تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا ‘لوگ کہتے ہیں کہ رام مندر کی تعمیر میں دیری کیوں۔ یہ وشو ہندو پریشد ہمیں بیوقوف بنارہی ہے۔ سادھو سنت بے کار ہیں۔ اچھا یہ بتائیں کہ مندر بنانا ہے یا کوئی درگاہ بنانی ہے۔ درگاہ تو چار اینٹیں ڈالو، کتا مرا پڑا ہے چادر ڈال دو،درگاہ بن گئی۔ ہمیں ایک عظیم الشان مندر بنانا ہے۔ ہمیں کوئی چھوٹی سے چھونپڑی نہیں بنانی۔ مندر ایک تاریخی اور مثالی بنانا ہے۔ اس کے لئے اتنے پتھر چاہیے کہ ایک دن میں ان پتھروں کی سجاوٹ کا کام مکمل نہیں ہوگا’۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading