اپنی غلطیوں پر پردہ ڈال رہی آر بی آئی؟

نئی دہلی ، 28 اکتوبر. (پی ایس آئی) نوٹ بندی کے وقت ہی ریزرو بینک (آر بی آئی) اور مرکزی حکومت کے تعلقات میں تلخی آنی شروع ہو گئی تھی. پہلے تو مرکزی حکومت نے آر بی آئی پر اس تاریخی قدم کا دفاع کرنے کا دباو¿ ڈالا، جبکہ بعد میں خود اس کی ذمہ داری لے لی. دونوں کے تعلقات میں ایک ایسے وقت میں اور زہر گھل گیا ہے، جب ملک اقتصادی محاذ پر شدید بحران سے گزر رہا ہے. دراصل، اےسے وقت میں مرکزی بینک کی ۔۔۔ کا مسئلہ اچھال کر کہیں آر بی آئی اپنی غلطیوں کو تو نہیں چھپانے چاہ رہی. آئیے تفصیل جانتے ہیں، کیا ہے مکمل ماجرا. مالیاتی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کا خیال ہے کہ یہ حالت آر بی آئی کی طرف سے نقد بحران سے نمٹنے میں ناکام رہنے اور مہنگائی کا صحیح صحیح اندازہ کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے ہوئی ہے. آر بی آئی کے گورنر ارجت پٹیل شاید ہی اپنی غلطیوں کو قبول کرےں گے، اگرچہ انہوں نے اپنے ماتحت افسر ویرل آچاریہ (ڈےپیٹی گورنر) کو اکسانے میں بھی کوئی کور کسر نہیں چھوڑی. آچاریہ نے جمعہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی حکومت نے آر بی آئی کی خود مختاری کو چوٹ پہنچانے کی کوشش کی، تو مارکیٹ کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے. اس سے پہلے، آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے بھی 2015 میں گوا میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ مضبوط حکومتیں صحیح سمت میں نہیں بڑھ سکتیں. جان کر حیرت ہوگی کہ ملک کی اقتصادی راجدھانی یعنی ممبئی میں پٹیل کو ‘چھوٹا راجن’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے. سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا آر بی آئی ایک ایسے مسئلے کو ہوا دے کر اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے، جس پر کافی پہلے سے بحث ہوتی آئی ہے. بتا دیں کہ طویل عرصے سے اس بات کو لے کر بحث ہوتی رہی ہے کہ ملک کی عدلیہ، الیکشن کمیشن، سی بی آئی جیسے اداروں کی خود مختاری خطرے میں ہے؟ حالیہ واقعے سے اس فہرست میں آر بی آئی کا بھی نام جڑ گیا ہے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading