اورنگ آباد:(جمیل شیخ):LEDپروجیکٹ کی تکمیل کے لئے مقررکردہ ایجنسی کی کارکردگی پر اسٹینڈگ کمیٹی کے اراکین نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور لائٹ سیکشن کے کارگزار ڈپٹی انجینئر کے ڈی دیشمکھ پر الزامات کی بوچھار کرڈالی۔
اورنگ آباد شہر و دیگر اہم قومی خبروں کیلئے ہمارے واٹس ایپ گروپ کو ابھی جوائن کریں
گزشتہ روز منعقدہ اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں وقفہ سوالات کے دو ران کارپوریٹر شلپا ران واڑ کر نے میونسپل لائٹ سیکشن اور ایل ای ڈی پروجیکٹ کے لئے مقررکردہ ایجنسی کی ناقص کارکردگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے چیرمین کو بتایا کہ متعلقہ ایجنسی ناقص کوالٹی کے ایل ای ڈی بلب استعمال کررہی ہے جس کی روشنی زیرو بلب کی روشنی سے بھی کم ہے۔ ان کے وارڈ میں بیشتر اسٹریٹ لائٹس بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے علاقہ میں چوری کی وارداتوں میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے۔ کارپوریٹر راکھی دیسراڈے نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے الزام لگایا کہ متعلقہ افسران کی لاپرواہیوں کے سبب شہر کے بیشتر علاقوں میں اسٹریٹ لائٹ دن میں روشن رہتے ہیں اور رات کے وقت وہ بند رہتے ہیں جس کی وجہ سے شہر بھر میں اندھیرے کا راج ہے دیگر اراکین نے بھی اس معاملہ پر متعلقہ انجینئر پر الزامات کی بوچھار کر ڈالی اور چیرمین سے سوال کیا کہ متعلقہ ایجنسی کی جانب سے شہر میں لگائے گئے ایل ای ڈی بلب کی کوالیٹی جانچ مقررکردہ بی ایم سی کے ذمہ داران میونسپل عہدیداران کی موجودگی میں کرنے والی تھی اس کا کیا ہوا۔
اورنگ آباد شہر و دیگر اہم قومی خبروں کیلئے ہمارے واٹس ایپ گروپ کو ابھی جوائن کریں
مگر نہ تو اس سوال کا جواب چیرمین کے پاس تھا اور نہ ہی میونسپل لائٹ سیکشن کے انجینئر اس کا جواب دے سکے۔ ہمیشہ ہی کی طرح وہ گزشتہ روز بھی گمراہ کن جوابات دینے لگے جس پر چیرمن بھی ان ر خفا ہوگئے اور انھوں نے ڈپٹی انجینئر کے ڈی دیشمکھ کو وراننگ دی کہ وہ اپنی روش تبدیل کرلیں۔ اور ایل ای ڈی پروجیکٹ میں ہورہی دھاندلیوں پر فوری قابو پانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے۔ اس طرح شہر کے بند اسٹریٹ لائٹس شروع کروانے کے لئے جنگی پیمانے پر کام شروع کیا جائے.