راکھی دیسرڈا کا میونسپل انتظامیہ سے مطالبہ
اورنگ آباد:(جمیل شیخ):چکل تھانہ علاقہ سے نکلنے والے ڈرینج کے پانی اور جھالٹہ ایس ٹی پی پلانٹ تک پہنچنے والے سیوریج وائر کا آڈٹ کروایا جائے اور اگر ان دونوں کی مقدار میں فرق آیا تو متعلقہ کانٹریکٹر او رمیونسپل انجینئر کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے گا۔
اورنگ آباد شہر و دیگر اہم قومی خبروں کیلئے ہمارے واٹس ایپ گروپ کو ابھی جوائن کریں
یہ انتباہ کارپوریٹر راکھی دیبراڈانے نے آج منعقدہ اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران میونسپل انتظامیہ کو دیا۔ آج بلائی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں اراکین نے الزام لگایا کہ سکھنا ندی سے گزرنے والا سیوریج وائر چراکر چکل تھانے کے کسان اس سے فصلیں سینچ رہے ہیں جس سے ان علاقوں میں اگائی جانیوالی سبزیاں اور فصل کے استعمال سے شہریان بھیانک بیماریوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے لہذا سکھنا ندی سے سیوریج وائر چرانے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے جس پر ایکزیکٹیو انجینئر افسر صدیقی نے وضاحت کی کہ فاضل عدالت کی ہدایت پر اس ندی سے سیوریج وائر چرانے والو ں کے خلاف کئی مرتبہ کاروائی کی جاچکی ہے مگر میونسپل عملے کے لوٹتے ہی متعلقہ کسان پھر سے وہاں الیکٹرک موٹریں نصب کرکے سیوریج ٹینک سے پانی حاصل کرکے زراعت کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ ان پر نظر رکھنے کے لئے خصوصی مہم چلائی جارہی ہے اس کے باوجود وہ لوگ ان حرکتوں سے باز نہیں آئے۔
جس پراراکین شدید برہم ہوگئے۔ اور کارپوریٹر راکھی دیسرڈانے چیرمین سے مطالبہ کیا کہ چکل تھانہ علاقہ سے نکلنے والے ڈرینج وائر اور جھالٹہ ایس ٹی پی پلانٹ تک پہنچنے والے سیوریج وائر کا آڈٹ کروایا جائے اور آڈٹ رپورٹ آٹھ دنوں کے اندر اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کروائی جائے اگر آڈٹ رپورٹ میں دونوں جگہوں کے پانی کی مقدار میں فرق آتا ہے تو وہ متعلقہ کانٹریکٹر اور متعلقہ انجینئر کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر وائیں گے۔