اﷲ عزوجل فرماتا ہے: [اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۶۰)](پ۱۰، التوبۃ : ۶۰) صدقات فقرا و مساکین کے لیے ہیں اور انکے لیے جو اس کام پر مقرر ہیں اور وہ جن کے قلوب کی تالیف مقصود ہے اور گردن چھڑانے میں اور تاوان والے کے لیے اور اﷲ (عزوجل) کی راہ میں اور مسافر کے لیے، یہ اﷲ (عزوجل) کی طرف سے مقرر کرنا ہے اور اﷲ (عزوجل) علم و حکمت والا ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے: { وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳)} (پ۱، البقرۃ: ۳) اور متقی وہ ہیں کہ ہم نے جو انھیں دیا ہے، اُس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ اورفرماتا ہے: { خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا } (پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۳) ان کے مالوں میں سے صدقہ لو، اس کی وجہ سے انھیں پاک اورستھرا بنا دو۔ اور فرماتا ہے: { وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ(۴)} (پ۱۸، المؤمنون: ۴) اور فلاح پاتے وہ ہیں جو زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔ اور فرماتا ہے: [وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۳۹)] (پ۲۲، سبا: ۳۹) اور جو کچھ تم خرچ کرو گے، اﷲ تعالیٰ اُس کی جگہ اور دے گا اور وہ بہتر روزی دینے والا ہے۔ اورفرماتاہے: [مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱)اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲)قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًىؕ-وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ(۲۶۳)](پ۳، البقرۃ: ۲۶۱ ۔ ۲۶۳) جو لوگ اﷲ (عزوجل) کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کی کہاوت اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیں نکلیں ۔ ہر بال میں سو دانے اور اﷲ (عزوجل) جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور اﷲ (عزوجل) وسعت والا، بڑا علم والا ہے۔ جو لوگ اﷲ (عزوجل) کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے، نہ اذیت دیتے ہیں ، اُن کے لیے اُن کا ثواب اُن کے رب کے حضور ہے اور نہ اُن پر کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اچھی بات اور مغفرت اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد اذیت دینا ہو اور اﷲ (عزوجل) بے پرواہ حلم والا ہے۔ اور فرماتا ہے: [لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ(۹۲)](پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۹۲) ہرگز نیکی حاصل نہ کرو گے جب تک اس میں سے نہ خرچ کرو جسے محبوب رکھتے ہو اور جو کچھ خرچ کرو گے اﷲ (عزوجل) اُسے جانتا ہے۔ اور فرماتا ہے: [لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ-وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ-وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷)] (پ۲، البقرۃ: ۱۷۷) نیکی اس کا نام نہیں کہ مشرق و مغرب کی طرف مونھ کر دو، نیکی تو اُس کی ہے جو اﷲ (عزوجل) اور پچھلے دن اور ملائکہ و کتاب و انبیا پر ایمان لایا اور مال کو اُس کی محبت پر رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور سائلین کو اور گردن چھٹانے میں دیا اور نماز قائم کی اور زکاۃ دی اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی معاہدہ کریں تو اپنے عہد کو پورا کریں اور تکلیف و مصیبت اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے وہ لوگ سچے ہیں اور وہی لوگ متقی ہیں ۔ اور فرماتا ہے: {وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۸۰)} ( پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۱۸۰) جو لوگ بخل کرتے ہیں اُس کے ساتھ جو اﷲ (عزوجل) نے اپنے فضل سے اُنھیں دیا۔ وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ اُن کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ اُن کے لیے بُرا ہے۔ اس چیز کا قیامت کے دن اُن کے گلے میں طوق ڈالا جائے گا جس کے ساتھ بخل کیا۔ اور فرماتا ہے۔ [وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴) یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(۳۵)](پ۱۰، التوبۃ: ۳۴ ۔ ۳۵) جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے اور اُسے اﷲ (عزوجل) کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں ، انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو، جس دن آتش جہنم میں وہ تپائے جائیں گے اور اُن سے اُن کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں داغی جائیں گی (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کوئی روپیہ دوسرے روپیہ پر نہ رکھا جائے گا۔ نہ کوئی اشرفی دوسری اشرفی پر بلکہ زکاۃ نہ دینے والے کا جسم اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ لاکھوں کروڑوں جمع کیے ہوں تو ہر روپیہ جدا داغ دے گا۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر ۱۲ منہ ’’الترغیب و الترہیب‘‘، کتاب الصدقات، الترہیب من منع الزکاۃ، الحدیث: ۲۲، ج۱، ص۳۱۰۔) (اور اُن سے کہاجائے گا) یہ وہ ہے جو تم نے اپنے نفس کے لیے جمع کیا تھا تو اب چکھو جو جمع کرتے تھے۔ نیز زکاۃ کے بیان میں بکثرت آیات وارد ہوئیں جن سے اُس کا مہتم بالشّان ہونا ظاہر۔ سنن ابی داود و ترمذی میں امیرا لمومنین مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ سے مروی، رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’گھوڑے اور لونڈی غلام کی زکاۃ میں نے معاف فرمائی تو اب چاندی کی زکاۃ ہر چالیس درہم سے ایک درہم ادا کرو، مگر ایک سو نوے ۱۹۰ میں کچھ نہیں ، جب دو سو ۲۰۰ درہم ہوں تو پانچ درہم دو۔‘‘ ( ’’جامع الترمذی‘‘، أبواب الزکاۃ، باب ما جاء في زکاۃ الذھب والورق، الحدیث: ۶۲۰، ج۲، ص۱۲۲) حدیث ۲: ابو داود کی دوسری روایت انھیں سے یوں ہے، کہ ہر چالیس ۴۰ درہم سے ایک درہم ہے، مگر جب تک دو سو ۲۰۰ درہم پورے نہ ہوں کچھ نہیں جب دو سو ۲۰۰ پورے ہوں تو پانچ درہم اور اس سے زیادہ ہوں تو اسی حساب سے دیں ۔ ( ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الزکاۃ، باب في زکاۃ السائمۃ، الحدیث: ۱۵۷۲، ج۲، ص۱۴۲) حدیث ۳: ترمذی شریف میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ مروی، کہ دو عورتیں حاضرِخدمت اقدس ہوئیں ، اُن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے، ارشاد فرمایا: ’’تم اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ عرض کی نہیں ۔ فرمایا: تو کیا تم اُسے پسند کرتی ہو کہ اﷲ تعالیٰ تمھیں آگ کے کنگن پہنائے، عرض کی نہ۔ فرمایا: تو اس کی زکاۃ ادا کرو۔‘‘( ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب الزکاۃ، باب ماجاء في زکاۃ الحلی، الحدیث: ۶۳۷، ج۲، ص۱۳۲) حدیث ۴: امام مالک و ابو داود و ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں فرماتی ہیں : میں سونے کے زیور پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کی یا رسول اﷲ (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا یہ کنز ہے (جس کے بارے میں قرآن مجید میں وعید آئی) ؟ ارشاد فرمایا: ’’جو اس حد کو پہنچے کہ اس کی زکاۃ ادا کی جائے اور ادا کر دی گئی تو کنز نہیں ۔‘‘ ( ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الزکاۃ، باب الکنز ما ھو؟ وزکاۃ الحلی، الحدیث: ۱۵۶۴، ج۲، ص۱۳۷) حدیث ۵: امام احمد باسناد حسن اسما بنت یزید سے راوی، کہتی ہیں ۔ میں اور میری خالہ حاضرِخدمتِ اقدس ہوئیں اور ہم سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے۔ ارشاد فرمایا: ’’اس کی زکاۃ دیتی ہو، عرض کی نہیں ۔ فرمایا: کیا ڈرتی نہیں ہو کہ اﷲ تعالیٰ تمھیں آگ کے کنگن پہنائے، اس کی زکاۃ ادا کرو۔‘‘( ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، من حدیث أسماء ابنۃ یزید، الحدیث: ۲۷۶۸۵، ج۱۰، ص۴۴۶) حدیث ۶: ابو داود و سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ہم کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حکم دیا کرتے کہ ’’جس کو ہم بیع (تجارت) کے لیے مہیا کریں ، اس کی زکاۃ نکالیں ۔‘‘( ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الزکاۃ، باب العروض اذا کانت للتجارۃ ھل فیھا زکاۃ؟، الحدیث: ۱۵۶۲، ج۲، ص۱۳۶) رومی