اجیت پوار کی گنّا کسانوں اور کٹائی مزدوروں کے تحفظ کے لیے قانونی مسودہ تیار کرنے کی ہدایت

یہ قانون کسانوں اور مزدوروں کے استحصال کو روکے گا اور شفافیت کو یقینی بنائے گا: اجیت پوار

ممبئی: نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے مہاراشٹر میں شوگر ملوں، گنے کی نقل و حمل اور کٹائی کے معاہدوں میں ہونے والی دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے ایک جامع قانون تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ قانون گنے کے کسانوں اور کٹائی مزدوروں کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے بنایا جائے گا۔ ممبئی کے سہیادری گیسٹ ہاؤس میں اجیت پوار کی صدارت میں ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں انہوں نے واضح کیا کہ اس قانون کے ذریعے گنے کی کٹائی کے ٹھیکیداروں اور مزدوروں کے لیے ایک منظم ڈھانچہ بنایا جائے گا تاکہ تمام متعلقہ فریقین کو انصاف ملے اور کسی بھی طبقے کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

اجیت پوار نے ہدایت دی ہے کہ محنت اور سماجی انصاف کے محکمے کو چاہیے کہ وہ اس قانون کا مسودہ محکمۂ تعاون، محکمۂ داخلہ اور محکمۂ قانون و انصاف کے ساتھ مل کر تیار کرے۔ مسودے کو کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے سے پہلے گنے کے کسانوں، کٹائی مزدوروں، ٹرانسپورٹروں اور شوگر مل مالکان کی تنظیموں سے مشاورت کی جائے گی۔

ریاست میں شوگر ملیں گنے کی کٹائی کے لیے ٹھیکیداروں کے ساتھ معاہدے کرتی ہیں، جنہیں کروڑوں روپے ایڈوانس دیے جاتے ہیں۔ تاہم، بعض اوقات ٹھیکیدار معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتے اور مطلوبہ تعداد میں مزدور فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ بعض صورتوں میں مزدور درمیان میں ہی کام چھوڑ دیتے ہیں، جس سے شوگر ملوں اور کسانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کئی بار ٹھیکیداروں اور ٹرانسپورٹروں کے درمیان تنازعات قتل جیسی سنگین وارداتوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس وقت گنے کی کٹائی کے ٹھیکیداروں کے ذریعے کی گئی کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کے کئی مقدمات درج ہیں۔ ایسی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے آج ممبئی کے سہیادری گیسٹ ہاؤس میں نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا۔

اجلاس میں وزیرِ تعاون بابا صاحب پاٹل، ایم ایل اے ابھیجیت پاٹل، شوگر فیڈریشن کے ڈائریکٹر جے پرکاش دانڈے گاؤں کر، وسما کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اجیت چوگلے، شوگر فیڈریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر سنجے کھتال، منصوبہ بندی محکمہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری راج گوپال دیورا، سماجی انصاف کے پرنسپل سیکریٹری ہرش دیپ کامبلے، محنت کے پرنسپل سیکریٹری آئی اے کندن، محکمہ داخلہ کے اسپیشل پرنسپل سیکریٹری انوپ کمار، اسپیشل انسپکٹر جنرل آف پولیس منوج شرما، شوگر کمشنر سدارام سلیمٹھ، ایڈووکیٹ بھوشن مہاڈیک سمیت کئی سینئر افسران اور شوگر انڈسٹری سے جڑے اہم افراد موجود تھے۔

گنے کی کٹائی کرنے والے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے ’’لوک نیتا گوپی ناتھ منڈے گنا کٹائی مزدور کلیان نگم‘‘ قائم کیا گیا ہے، جس کے لیے معقول فنڈ فراہم کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مزدوروں کے بچوں کی تعلیم اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ یہ سہولیات زیادہ سے زیادہ مزدوروں تک پہنچیں، جس کے لیے آدھار پر مبنی سروے اور رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔

اجیت پوار نے کہا کہ گنے کی کٹائی کے ٹھیکیدار شوگر ملوں سے بھاری ایڈوانس لیتے ہیں، مگر معاہدے پر عمل نہیں کرتے، جس سے کسانوں اور ملوں کو مالی نقصان ہوتا ہے۔ اس نقصان کو روکنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر قانون ضروری ہے۔ انہوں نے سماجی انصاف اور محنت کے محکمے کو ہدایت دی کہ وہ محکمۂ تعاون، محکمۂ داخلہ اور محکمۂ قانون و انصاف کی مدد سے ایک جامع قانون کا مسودہ تیار کرے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ قانون ایسا ہونا چاہیے کہ چاہے وہ گنا کسان ہو یا کٹائی مزدور کسی کے بھی ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو اور سب کو انصاف ملے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading