بجلی بل سستا کرنے کا وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا اعلان ہوا ہوائی: اتل لونڈھے

عام شہریوں کو بجلی بل کے بوجھ سے کوئی راحت نہیں

‘لاڈکی بہن’ اور کسانوں کے بعد بجلی صارفین کے ساتھ بھی بی جے پی یوتی سرکار کی سنگین دھوکہ دہی

ممبئی: بھارتیہ جنتا پارٹی یوتی سرکار مہاراشٹر کے عوام کے ساتھ مسلسل دھوکہ دہی کر رہی ہے۔ ‘لاڈکی بہن’ اسکیم کے تحت 2100 روپے دینے کے معاملے میں حکومت نے ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی ہے۔ کسانوں کو قرض معافی دینے میں بھی حکومت ناکام رہی ہے اور یکم اپریل 2025 سے بجلی بل سستا کرنے کا وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا اعلان بھی محض ایک فریب ثابت ہوا ہے، کیونکہ عام شہریوں کو بجلی بل کا زبردست جھٹکا برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہی۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ مہاراشٹر میں بجلی کے شعبے سے وابستہ تین کمپنیاں، ‘مہانرمتھی’، ‘مہاپاریشن’ اور ‘مہاورتن’ ہیں، جن کا مالک خود ریاستی حکومت ہے۔ بجلی بل سے متعلق تجاویز بجلی ریگولیٹری کمیشن کے پاس جاتی ہیں اور یہ کمیشن ہی بجلی بل میں کمی یا اضافے کا فیصلہ کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے 28 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ یکم اپریل 2025 سے اگلے پانچ سالوں میں بجلی بل بتدریج کم کیا جائے گا۔ اسی دن بجلی ریگولیٹری کمیشن نے بھی اعلان کیا تھا کہ یکم اپریل سے بجلی کے نرخوں میں 10 فیصد کمی کی جائے گی۔ لیکن حکومت کے زیر انتظام کمپنی ‘مہاورتن’ نے اس فیصلے پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ کمپنی پر 90 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض ہے اور اگر بجلی بل کم کیا گیا تو کمپنی خسارے میں چلی جائے گی۔

اتل لونڈھے نے سوال اٹھایا کہ جب وزیر اعلیٰ فڑنویس نے بجلی سستی کرنے کا اعلان کیا تھا تو کیا انہیں اپنے ہی محکمے کی صورتحال کا علم نہیں تھا؟ یا پھر بجلی ریگولیٹری کمیشن نے خود ہی 10 فیصد کمی کا اعلان کر دیا تھا؟ یہ عوام کے ساتھ دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی نے کسانوں کو قرض معافی، ‘لاڈکی بہن’ اسکیم کے تحت 1500 روپے سے بڑھا کر 2100 روپے دینے اور 2.5 لاکھ سرکاری اسامیوں پر بھرتی کے وعدے کیے تھے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کے رویے میں واضح تبدیلی آ چکی ہے۔ کسانوں، خواتین اور بے روزگار نوجوانوں کو دھوکہ دینے کے بعد اب عام بجلی صارفین کے ساتھ بھی سخت ناانصافی کی جا رہی ہے۔ عوام کے پاس اب صرف بھاری بھرکم بجلی بل ادا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا، یہ بات اتل لونڈھے نے کہی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading