اقلیتی ادارہ درجہ سرٹیفکیٹ معاملے کی گہرائی سے جانچ کر کے سخت کارروائی کی ہدایت: نائب وزیر اعلیٰ سنیترہ پوار
ممبئی: اقلیتی طبقے کے لیے مختص فنڈ طبقے کے مستحقین تک مساوی اور شفاف طریقے سے پہنچنے اور محکمہ کا کام کاج مزید عوام دوست اور جواب دہ بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ یہ ہدایت نائب وزیر اعلیٰ و اقلیتی ترقی کی وزیر سنیترہ اجیت پوار نے دی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ اسکولوں کو غلط طریقے سے اقلیتی درجہ کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کے معاملات کی مفصل جانچ کر کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
نائب وزیر اعلیٰ سنیترہ اجیت پوار کی صدارت میں سہیا دری گیسٹ ہاؤس میں اقلیتی ترقی محکمہ کی جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس موقع پر اقلیتی ترقی محکمہ کے سکریٹری روچیش جے ونشی، نائب وزیر اعلیٰ کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش دیشمکھ، جوائنٹ سکریٹری منوج جادھو، ڈپٹی سکریٹری ایم پی شینائے، انڈر سکریٹری سارنگ کمار پاٹل، انڈر سکریٹری جہاںگیر خان، انڈر سکریٹری وشاکھا آڑھاؤ اور انڈر سکریٹری میگھنا شندے موجود تھیں۔
میٹنگ میں ہدایت دی گئی کہ ریاست کی اقلیتی طبقات کی سماجی، معاشی، تعلیمی اور ثقافتی ترقی کے لیے حکومت پُرعزم ہے اور مرحوم نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی طے کردہ پالیسیوں کے مطابق ہی محکمہ کی پیش رفت ہونی چاہیے۔ سچر کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر 21 فروری 2008 کو ریاست میں الگ اقلیتی ترقی محکمہ قائم کیا گیا تھا۔ اس محکمہ کے ذریعے تعلیمی وظائف، ہاسٹل، مولانا آزاد اقلیتی معاشی ترقی کارپوریشن کی قرض اسکیمیں، جین اکنامک ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی براہِ راست قرض اور سود واپسی اسکیمیں، سیلف ہیلپ سیونگ گروپس، اسکل ڈیولپمنٹ اور بنیادی ڈھانچے کی اسکیموں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
سنیترہ پوار نے بتایا کہ مولانا آزاد کارپوریشن کے تعلیمی قرض کی حد 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی گئی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس اسکیم کا فائدہ حقیقی مستحقین کو ہی ملے۔ اسی طرح ریاست کی ’ڈاکٹر ذاکر حسین مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم‘ کے تحت بنیادی سہولتوں کی امداد 2 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے اور اہل اداروں کے انتخاب میں مکمل شفافیت برتی جائے۔ اقلیتی طلبہ کے لیے زیر تعمیر ہاسٹلوں کو جلد از جلد مکمل کر کے فعال کیا جائے۔ اقلیتی اکثریتی علاقوں کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے جاری فنڈ کی منصفانہ تقسیم ہو اور کاموں کا معیار اعلیٰ رکھا جائے، اس کی ذمہ داری محکمہ پر ہوگی۔ ناندیڑ، سولا پور اور مالیگاؤں میں قائم اردو گھر فعال ہو چکے ہیں اور دیگر مجوزہ اردو گھروں کے کام بھی مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
نائب وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ محکمہ میں خالی اسامیوں کے باعث انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے وقف بورڈ کی 179 منظور شدہ اسامیوں میں سے 96، وقف ٹریبونل کی 34 میں سے 25 اور حج کمیٹی کی 13 میں سے 10 خالی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے سنبھاجی نگر کے ڈویژنل کمشنر سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔ چھترپتی سنبھاجی نگر میں نئے قائم شدہ اقلیتی کمشنریٹ کے لیے مطلوبہ افسران و عملہ فراہم کر کے اسے مضبوط بنانے کی بھی ہدایت دی۔ بارٹی اور سارتھی کی طرز پر قائم ’مارٹی‘ (MRTI) کے کام کاج کا باقاعدہ جائزہ لے کر پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔ اقلیتی برادری میں بے روزگاری کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام نافذ کیے جائیں تاکہ انہیں روزگار کے قابل بنایا جا سکے۔ کھارگھر، نوی ممبئی میں مجوزہ ’شری گرو تیغ بہادر صاحب جی 350 واں شہیدی سماگم‘ کے انعقاد سے متعلق تمام انتظامی کارروائی فوری مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔