ایم ایچ-سی ای ٹی میں بھی نیٹ طرز کے گھوٹالے کا انکشاف

ایم ایچ-سی ای ٹی میں بھی نیٹ طرز کے گھوٹالے کا انکشاف

دسویں اور بارہویں میں کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو 100 پرسنٹائل کیسے؟: سچن ساونت

دسویں اور بارہویں میں ناکام طلبہ ٹاپرس کی فہرست میں شامل، ایم ایچ-سی ای ٹی امتحان کے پورے نظام پر سوالیہ نشان

امتحانی نظام پر کس کا کنٹرول ہے؟ اعلیٰ و ٹیکنیکل تعلیم کے وزیر چندرکانت پاٹل جواب دیں

ممبئی: نیٹ پیپر لیک معاملے کے بعد اب مہاراشٹر کے ایم ایچ-سی ای ٹی (MH-CET) امتحان میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور ممکنہ گھوٹالے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور تلنگانہ کے معاون انچارج سچن ساونت نے الزام لگایا ہے کہ دسویں اور بارہویں جماعت میں انتہائی کم نمبر حاصل کرنے والے کئی طلبہ کو ایم ایچ-سی ای ٹی میں 100 پرسنٹائل ملنا پورے امتحانی نظام پر سنگین سوال کھڑا کرتا ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک معاملے نے پہلے ہی طلبہ اور والدین کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے اور اب ایم ایچ-سی ای ٹی امتحان میں سامنے آنے والے اعداد و شمار نے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امتحان گیارہویں اور بارہویں جماعت کے نصاب پر مبنی ہوتا ہے، اس کے باوجود ایسے طلبہ جنہیں دسویں اور بارہویں میں صرف 35 سے 40 فیصد نمبر حاصل ہوئے، وہ ایم ایچ-سی ای ٹی میں 99 اور 100 پرسنٹائل تک پہنچ گئے، جو عام حالات میں ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

سچن ساونت نے کئی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک طالب علم کو دسویں جماعت میں ریاضی میں صرف 22 نمبر اور بارہویں میں 33 نمبر حاصل ہوئے، یعنی وہ ریاضی میں تقریباً ناکام تھا، لیکن اسی طالب علم نے ایم ایچ-سی ای ٹی میں 99.971 پرسنٹائل حاصل کرلیا۔ اسی طرح ایک طالب علم جسے دسویں میں 37 فیصد نمبر ملے، اسے ایم ایچ-سی ای ٹی میں 99.971 پرسنٹائل حاصل ہوئے۔ بارہویں میں 51 فیصد نمبر حاصل کرنے والے دو طلبہ کو 100 پرسنٹائل دیا گیا، جبکہ 45 فیصد اور 39 فیصد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ بھی 100 پرسنٹائل کی فہرست میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایچ-سی ای ٹی ریاضی میں 100 پرسنٹائل حاصل کرنے والے کئی طلبہ کے بارہویں جماعت کے ریاضی مضامین میں اوسط نمبر صرف 64 فیصد تھے، جبکہ بعض طلبہ کے نمبر 35 فیصد تک محدود تھے۔ ٹاپ 20 رینک حاصل کرنے والے طلبہ میں کئی ایسے ہیں جنہیں بورڈ امتحانات میں 60 فیصد سے بھی کم نمبر ملے، لیکن سی ای ٹی میں وہ ریاست کے سرفہرست امیدوار بن گئے۔ سچن ساونت نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ ’معجزہ‘ کیسے ہوا؟۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم ایچ-سی ای ٹی امتحان پر گزشتہ کئی برسوں سے ایک ہی گروپ کا کنٹرول ہے اور امتحانی سیل میں تعینات افسران کی نہ تو تبدیلی کی گئی اور نہ ہی ان کے کام کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے اعلیٰ و ٹیکنیکل تعلیم کے وزیر چندرکانت پاٹل سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کریں کہ امتحانی نظام پر کس کا اثر و رسوخ ہے اور ’جوشی‘نامی شخص کا اس پورے نظام سے کیا تعلق ہے۔

سچن ساونت نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہر سال ’پریکشا پہ چرچا‘ کے نام پر طلبہ کو لیکچر دیتے ہیں، لیکن انہی کے دور حکومت میں ویاپم، نیٹ اور اب ایم ایچ-سی ای ٹی جیسے امتحانی گھوٹالے مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ہی امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملات زیادہ سامنے آئے ہیں اور کئی ملزمان کے روابط بی جے پی لیڈروں سے بھی جڑے ہوئے پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کی تھی، جس کے بعد امتحانی سیل نے وضاحت دی کہ طلبہ کی فہرست واضح نہیں تھی۔ سچن ساونت کے مطابق طلبہ کے نام جان بوجھ کر چھپائے گئے تاکہ معاملہ عوام کے سامنے نہ آسکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دوبارہ مکمل فہرست اور تفصیلی خط ایم ایچ-سی ای ٹی کمیشن کو بھیجیں گے اور اس معاملے پر باضابطہ جواب طلب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ اور ایم ایچ-سی ای ٹی جیسے امتحانات لاکھوں طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں، اس لیے ان میں ہونے والی کسی بھی بے ضابطگی کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ سچن ساونت نے مطالبہ کیا کہ امتحانی گھوٹالوں کے ذریعے طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے اور شفاف امتحانی نظام قائم کیا جائے۔

MPCC Urdu News 19 May 26.docx

MHT CET Merit List.pdf

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading