خصوصی جامع نظرثانی مہم شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں چلائی جائے: مہاوکاس اگھاڑی کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ
ممبئی: مہاوکاس اگھاڑی کے سرکردہ لیڈروں نے آج ریاستی چیف الیکشن آفیسر ایس چوکالنگم سے ملاقات کرکے ریاست میں انتخابی عمل سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر ریاست میں جاری خصوصی جامع نظرثانی مہم (SIR) کے تعلق سے ایک مفصل مکتوب بھی پیش کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا عمل مکمل شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ انجام دیا جائے۔
مہاوکاس اگھاڑی کے وفد میں کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، نیشنلسٹ کانگریس کے لیڈر جینت پاٹل، نیشنلسٹ کانگریس کے ریاستی صدر ششی کانت شندے، قانون ساز کونسل میں کانگریس پارٹی کے گروپ لیڈر ستیج عرف بنٹی پاٹل، شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) لیڈر اور یوا سینا کے سربراہ آدتیہ ٹھاکرے، سابق وزیر انل پرب، راجیش ٹوپے، ڈاکٹر وشوجیت کدم، رکن پارلیمنٹ دھیرج شیل پاٹل، سابق قائد حزب اختلاف امباداس دانوے، سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری سچن ساونت، یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر شیوراج مورے، ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ سندیش کونڈویلکر، سماجی کارکن اولکا مہاجن سمیت مہاوکاس اگھاڑی کے متعدد اہم عہدیداران شامل تھے۔
وفد نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے دوران مکمل شفافیت برقرار رکھی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام غیر منصفانہ طور پر فہرست سے حذف نہ کیا جائے۔ ساتھ ہی فرضی اور ڈپلیکیٹ اندراجات کے خلاف سخت کارروائی کی بھی مانگ کی گئی۔ مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈروں نے اس بات پر خاص زور دیا کہ دیہی علاقوں، آدیواسی سماج، نقل مکانی کرنے والے مزدوروں، محروم طبقات اور کمزور طبقات کے ووٹروں کو کسی تکنیکی وجہ سے حق رائے دہی سے محروم نہ رکھا جائے۔ وفد نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی کہ ایسے طبقات کے ووٹروں کے تحفظ اور اندراج کے لیے خصوصی احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔
اس کے علاوہ وفد نے پولنگ اسٹیشنوں کی منصوبہ بندی، ووٹر لسٹ کی خامیوں کی اصلاح، بوتھ لیول افسران کے کام کاج، ووٹر رجسٹریشن کے عمل میں شفافیت اور تمام سیاسی پارٹیوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے جیسے مسائل بھی الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھائے۔ مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈروں نے واضح کیا کہ جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن مکمل غیر جانبداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے اور انتخابی عمل کو ہر طرح کے شبہات سے پاک رکھا جائے۔