تھانے میں نیشنلسٹ کانگریس کو دوبارہ مضبوط کریں گے: پربودھ ڈاوکھرے
چھگن بھجبل کی موجودگی میں پربودھ ڈاوکھرے کی نیشنلسٹ کانگریس میں شمولیت، دلیپ ولسے پاٹل نے بھی کیا استقبال
ممبئی: مرحوم وسنت ڈاوکھرے کے فرزند پربودھ ڈاوکھرے نے آج نیشنلسٹ کانگریس پارٹی میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور وزیر خوراک و شہری رسد چھگن بھجبل کی موجودگی میں منعقدہ تقریب میں انہیں پارٹی کی علامتی گھڑی سونپ کر استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر نیشنلسٹ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر دلیپ ولسے پاٹل بھی موجود تھے۔
پارٹی دفتر میں منعقدہ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چھگن بھجبل نے کہا کہ مرحوم وسنت ڈاوکھرے نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے طویل عرصے تک محنت کی تھی۔ وہ کئی برسوں تک قانون ساز کونسل کے چیئرمین رہے اور اپنی شائستگی و وسیع تعلقات کے باعث وہ تمام پارٹیوں کے لیڈران کے درمیان عزت و احترام سے دیکھے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شیواجی، شاہو، پھلے اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے افکار پر چلنے والی نیشنلسٹ کانگریس میں آج ان کے فرزند پربودھ ڈاوکھرے کی شمولیت خوش آئند ہے۔ چھگن بھجبل نے پربودھ ڈاوکھرے کو یقین دلایا کہ پارٹی میں انہیں مکمل احترام اور مناسب مقام دیا جائے گا اور پوری پارٹی ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پربودھ ڈاوکھرے نے کہا کہ انہوں نے نیشنلسٹ کانگریس کے نوجوان لیڈر اور رکن پارلیمنٹ پارتھ پوار کی قیادت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان کے والد مرحوم وسنت ڈاوکھرے کے دور میں تھانہ میں نیشنلسٹ کانگریس کا جو اثر و رسوخ تھا، اسے دوبارہ قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کی تنظیمی طاقت بڑھانے اور عوامی سطح پر پارٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کریں گے۔
تقریب کے دوران دلیپ ولسے پاٹل نے بھی پربودھ ڈاوکھرے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی شمولیت سے پارٹی تنظیم کو مزید تقویت ملے گی اور ٹھانہ سمیت دیگر علاقوں میں پارٹی کو فائدہ پہنچے گا۔ نیشنلسٹ کانگریس دفتر میں منعقدہ اس تقریب میں سابق وزیر سنجے بنسوڑے، پارٹی کے خزانچی اور رکن اسمبلی شیواجی راؤ گرجے، رکن اسمبلی پرتاپ راؤ چکھلیکر پاٹل، ریاستی نائب صدر پرمود ہندوراؤ، نوجوان لیڈر اور ریاستی ترجمان سورج چوہان، ریاستی جنرل سکریٹری لطیف تمبولی سمیت پارٹی کے متعدد عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔