اگر میری زبان کاٹنی ہے تو کاٹ لو، لیکن بی جے پی کو بے نقاب کرنا بند نہیں کروں گا: ہرش وردھن سپکال

ملک کے سلگتے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ٹیپو سلطان کے نام پر بی جے پی کی سیاست

ممبئی: کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ وہ اڈانی–امبانی اور امریکہ کے مفادات کی سیاست کرنے والی اور آئین کو بدلنے کی کوشش کرنے والی بی جے پی کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کو ان کی زبان کاٹنی ہے تو کاٹ لے، لیکن وہ سچ بولنا اور بی جے پی کی پالیسیوں کا پردہ فاش کرنا بند نہیں کریں گے۔
سپکال نے کہا کہ بی جے پی کے بعض اراکین اسمبلی اور لیڈروں نے ان کی زبان کاٹ کر لانے والے کو انعام دینے کا اعلان کیا ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ان کی زبان کاٹنے سے بھارتی کسانوں کو امریکہ سے ہونے والی درآمدات سے تحفظ ملنے والا ہے، نامنصفانہ تجارتی معاہدہ منسوخ ہونے والا ہے، کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملنے والی ہے، وہ قرض سے آزاد ہونے والے ہیں، ملک میں ہندو مسلم نفرت کی سیاست بند ہونے والی ہے اور چین کے قبضے میں گیا علاقہ واپس ملنے والا ہے تو ان کی زبان ضرور کاٹ لی جائے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا، اس لیے اصل سوالات سے توجہ ہٹانے کے لیے ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں کہی۔ مہاراج کی عظمت اور ان کی خدمات ناقابلِ تردید ہیں اور ان کی شہرت چاند کی طرح بڑھتی ہی رہے گی، اس پر کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ لیکن بی جے پی نے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور مہاراشٹر میں اشتعال پھیلانے کی کوشش کی۔ اس کے پیچھے موجود سازش کو عوام کو سمجھنا چاہیے۔
سپکال نے کہا کہ ایپسٹین فائلز کا معاملہ ہو یا امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدہ، ان موضوعات پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے معاہدوں سے بھارتی کسانوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مہاراشٹر میں بھی کئی بنیادی اور عوامی مسائل موجود ہیں، لیکن ان پر جواب دینے کے بجائے بی جے پی جذباتی اور مذہبی موضوعات کو ہوا دے رہی ہے تاکہ اصل مسائل پسِ منظر میں چلے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور دباؤ یا دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading