ناندیڑ/پربھنی/اورنگ آباد (ورق تازہ نیوز): ریاست کے خطہ مراٹھواڑہ میں شدید گرمی کی لہر نے عوام کو بے حال کر دیا ہے۔ خطے کے مختلف اضلاع میں درجۂ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جس کے باعث معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق آج بروز پیرکو پربھنی میں سب سے زیادہ درجۂ حرارت 45 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو اس سیزن کا اب تک کا بلند ترین درجۂ حرارت مانا جا رہا ہے۔ اسی طرح ناندیڑمیں 42.8 ڈگری جبکہ تاریخی شہراورنگ آبادمیں درجہ حرارت42 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔
شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ کے باعث دوپہر کے اوقات میں سڑکیں سنسان نظر آئیں، جبکہ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ بازاروں اور عوامی مقامات پر بھی غیر معمولی خاموشی دیکھی گئی۔ماہرین موسمیات کے مطابق درجۂ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ہیٹ ویو جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جس کے باعث خاص طور پر بزرگ افراد، بچے اور بیمار افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں، زیادہ پانی پئیں، ٹھنڈی اشیاء کا استعمال کریں اور خود کو دھوپ سے محفوظ رکھیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں تک مراٹھواڑہ میں گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر عوام کو احتیاط برتنے کی سخت ضرورت ہے۔تفصیلات کے مطابق صبح سے ہی سورج کی تپش میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ دوپہر کے وقت گرمی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ تیز دھوپ اور گرم ہواؤں کے باعث سڑکیں سنسان نظر آئیں اور شہریوں نے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس سال گرمی کی شدت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ کئی لوگوں نے اسے "ناقابل برداشت” قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق اس طرح کی شدید گرمی میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور ہلکے کپڑوں کا استعمال کریں۔محکمہ موسمیات نے بھی خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں تک گرمی کی شدت میں کمی کے امکانات کم ہیں، لہٰذا عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔