آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری تشویشناک ہے: سپریا سولے
نئی دہلی: این سی پی شرد پوار کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے پیر کے روز لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی پالیسی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے 20,000 ملازمین کے مستقبل پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کی۔
سپریا سولے نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب جسونت سنگھ وزیر خزانہ تھے تو انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ آئی ڈی بی آئی بینک کبھی نجی نہیں ہوگا اور اس کے 51 فیصد حصص حکومت کے پاس ہی رہیں گے۔ مگر حالیہ اطلاعات کے مطابق ایل آئی سی نے بینک کے متعدد حصص حاصل کر لیے ہیں اور اگر یہ حصص مارکیٹ میں فروخت کر دیے گئے تو بینک کا 61 فیصد حصہ نجی ہاتھوں میں چلا جائے گا، جو ایک تشویشناک بات ہے۔
حکومت کی جانب سے آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری کو ہندوستان کے بینکاری اور مالیاتی شعبے کی سب سے بڑی اسٹریٹیجک فروخت قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوری 2023 میں محکمہ برائے سرمایہ کاری و عوامی اثاثہ جات مینجمنٹ (DIPAM) نے بینک کے 60.72 فیصد حصص فروخت کرنے کے لیے اظہارِ دلچسپی (EOI) طلب کیے تھے، جن میں 30.48 فیصد حکومت اور 30.24 فیصد ایل آئی سی کے حصے شامل تھے۔ اس نجکاری میں دلچسپی رکھنے والوں میں فیرفیکس انڈیا ہولڈنگز، امارات این بی ڈی اور کوٹک مہندرا بینک شامل ہیں۔
مالیاتی بولی کا عمل مئی-جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے، مگر بینک کے ملازمین میں اس حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ سولے نے نشاندہی کی کہ تمام افسران اور 20,000 ملازمین اس نجکاری کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بینک کی غیر فعال اثاثہ جات (NPA) میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کی مالی کارکردگی مستحکم ہے، لہٰذا اسے فروخت کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ حکومت اس نجکاری سے موجودہ مارکیٹ قیمت کے مقابلے میں اضافی پریمیم کی توقع کر رہی ہے اور 60.72 فیصد حصص کی کل مالیت تقریباً 47,400 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ اگر یہ معاہدہ پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے تو یہ وال مارٹ کے 16 بلین ڈالر میں فلپ کارٹ کے حصول کے بعد بھارت کی دوسری سب سے بڑی نجکاری ہوگی۔
اس فیصلے کے خلاف ملازمین اور مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ آئی ڈی بی آئی بینک کے تقریباً 6,000 سے 8,000 ملازمین درج فہرست ذاتوں (SC/ST) سے، 4,000 او بی سی پس منظر سے اور 485 جسمانی طور پر معذور افراد شامل ہیں، جس کے باعث یہ فیصلہ سماجی انصاف کے نقطۂ نظر سے بھی متنازعہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ 2016 میں بھی اٹھا تھا جب دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کھل کر آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری کی مخالفت کی تھی۔ اسی سال، بی جے پی کے نبارنگ پور سے رکن پارلیمنٹ بلبھدر مجی نے بھی اس نجکاری کی مخالفت کی تھی۔
رواں سال جنوری میں آل انڈیا آئی ڈی بی آئی آفیسرز ایسوسی ایشن نے اس اقدام کے خلاف جنتا منتر پر احتجاج کیا تھا، جس کے بعد بینک کے شیئرز کی قیمت میں 9 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ اس تنظیم نے 25 اراکینِ پارلیمنٹ سے اس معاملے پر حمایت بھی حاصل کی ہے۔ آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری، ایئر انڈیا کی فروخت کے بعد سب سے بڑی نجکاری قرار دی جا رہی ہے، مگر حکومت کی جانب سے اس حوالے سے متوقع مالی فوائد پر کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔