ترقی یافتہ بھارت کے لیے ترقی یافتہ مہاراشٹر کا روڈمیپ: اجیت پوار
ممبئی: وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کو 2047 تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور مہاراشٹر اس ہدف کی تکمیل کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔ اسی سمت میں ریاستی بجٹ ایک اہم قدم ہے، جو ترقی یافتہ بھارت کے قیام کے لیے ترقی یافتہ مہاراشٹر کا روڈمیپ متعین کرتا ہے۔ اس بجٹ میں متوازن ترقی کی صلاحیت موجود ہے، جس پر نائب وزیر اعلیٰ و وزیر خزانہ اجیت پوار نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ پر عام بحث کے دوران اعتماد کا اظہار کیا۔
ممبئی کو ملک کا معاشی دارالحکومت قرار دیتے ہوئے اجیت پوار نے کہا کہ مہاراشٹر نے ہمیشہ بھارت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور وزیر اعظم کے مقرر کردہ اہداف کے حصول میں ریاست پیچھے نہیں رہے گی۔ انہوں نے بجٹ کا بنیادی فلسفہ ’ترقی یافتہ بھارت، ترقی یافتہ مہاراشٹر‘ قرار دیا اور کہا کہ مہاراشٹر دیگر ریاستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔
اجیت پوار نے بتایا کہ 2023-24 میں زرعی ترقی کی شرح 3.3 فیصد تھی، جو حکومتی اقدامات کے نتیجے میں 2024-25 میں بڑھ کر 8.7 فیصد ہو گئی۔ اس بجٹ میں جدید زراعت کے لیے AI ٹیکنالوجی، آبپاشی کے بڑے منصوبے، اور مرہٹواڑہ واٹر گرڈ جیسے پروگراموں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ زرعی مشاورت کے لیے AI کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا اور آئندہ دو سال میں 500 کروڑ روپے اس مد میں خرچ کیے جائیں گے۔
ریاست میں 45 لاکھ کسانوں کو مفت بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ قدرتی آفات سے متاثرہ کسانوں کو 5,911 کروڑ روپے کی امداد دی جائے گی۔ دیگر امدادی پیکیجز میں 3,000 کروڑ روپے کپاس و سویا بین سبسڈی، 1,380 کروڑ روپے دھان بونس، اور 982 کروڑ روپے دودھ سبسڈی شامل ہیں۔ مہاراشٹر سرمایہ کاری کے لیے موزوں ریاست ہے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں سرفہرست ہے۔ حالیہ داؤوس معاہدے کے تحت ریاست میں 15.72 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے 16 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ “میک ان مہاراشٹر” مہم کے تحت نئی صنعتی پالیسی متعارف کرائی جائے گی، جس کے ذریعے آئندہ پانچ سال میں 40 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 50 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجیت پوار نے کہا کہ مہاراشٹر کا جی ایس ڈی پی (GSDP) گزشتہ پانچ سال میں 23 لاکھ کروڑ روپے بڑھا ہے اور اب اسے 14-15 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی دینے کا منصوبہ ہے۔ ریاستی معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر تک لے جانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، میٹرو نیٹ ورک کی توسیع، اور بڑے بندرگاہی منصوبے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ریاست میں پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے بجٹ میں 40 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس میں درج فہرست ذاتوں، قبائل، خانہ بدوش برادریوں، اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے خصوصی اسکیمیں شامل ہیں۔ خواتین کو خود مختار بنانے کے لیے ’ماجی لاڈکی بہن‘ منصوبہ متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت ہر ماہ 1,500 روپے کی مالی مدد دی جا رہی ہے۔
ریاست کا جی ایس ٹی ریونیو 3.28 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.3 فیصد زیادہ ہے۔ مہاراشٹر ملک میں سب سے زیادہ جی ایس ٹی جمع کرنے والی ریاست ہے، اور مستقبل میں مزید محصولات کی توقع ہے۔ اجیت پوار نے اس بجٹ کو مہاراشٹر کی ترقی کا ایک مستحکم اور متوازن منصوبہ قرار دیا، جو زراعت، صنعت، انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود کو یکساں اہمیت دیتا ہے۔
ایم پی ایس سی کے تین خالی عہدوں پر فوری تقرری کے لیے اجیت پوار کا وزیر اعلیٰ کو خط
ممبئی: مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے ذریعے ریاستی سروس میں افسر بننے کا خواب دیکھنے والے نوجوانوں کو انصاف دلانے کے لیے کمیشن کے تین خالی رکنیتوں پر فوری تقرری کی جائے، ایسی درخواست نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو خط لکھ کر کی ہے۔ اجیت پوار نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ اگر یہ تقرریاں فوری طور پر کی جائیں تو امتحانات، انٹرویوز اور نتائج کے عمل میں تیزی آئے گی، جس سے مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے ہزاروں طلبہ کو راحت ملے گی۔
ایم پی ایس سی کے تحت ڈپٹی کلکٹر، تحصیلدار، پولیس انسپکٹر، پروفیسر سمیت ریاستی خدمات کے اہم عہدوں پر تقرریاں کی جاتی ہیں۔ کمیشن میں ایک صدر اور پانچ اراکین کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے صدر اور دو اراکین کے عہدے بھرے ہوئے ہیں، جبکہ تین عہدے خالی ہیں۔ ان خالی عہدوں کے باعث کمیشن کے کام پر منفی اثر پڑ رہا ہے، امتحانات میں تاخیر ہو رہی ہے، انٹرویوز اور نتائج کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ طلبہ، والدین، اساتذہ اور مختلف تنظیموں کی جانب سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ یہ عہدے فوری طور پر پُر کیے جائیں۔ ان مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو خط لکھ کر ایم پی ایس سی کے تین خالی عہدوں پر فوری تقرری کی اپیل کی ہے۔