
وہ اپنے دھن میں رکشہ صاف کر رہا تھا اور من ہی من میںگنگنا رہا تھا۔اس کے چہرے پر آج ایک عجیب سی چمک تھی کیونکہ یہ دن اس کی زندگی میں پورے نو ماہ انتظار کرنے کے بعد آج اسے یہ خوشی ملنے والی تھی ۔ آج اسے اپنی پتنی کو ہسپتال لے کر جانا تھا۔اس نے رکشہ صاف کرنے کے بعد جلد ی سے ہاتھ منہ دھویااورشانے پر رکھا گمچھامیں ہاتھ منہ پوچھااور لنگی سے بندھی کھینی کی ڈبیا نکالی اورکھینی کو ہتھیلی پر رکھ کر چونا کے ساتھ اس پر انگلی رگڑا اور منہ میں دبا لیا۔تبھی سیٹھ رام داس گھر کے باہر زور سے آواز لگانے لگے۔
”جمنا!“
”ارے او جمنا!“
”کہاں ہے تو؟“
صبح صبح سیٹھ رام داس کی آواز سن کر جمنا دوڑ کر گھر کے باہر آیا۔
”جی مالک کا بات ہے؟بھورے بھورہمار گھر آپ کے قدم ہمار توبھاگ ہی کھل گئیل با حکم کریں مالک ۔“
جمنا نے منہ سے کھینی تھوکتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
”جمنا اپنا رکشہ جلدی سے نکال تیری مالکن کو ہسپتال لے کرجانا ہے۔آج میرے گھر کا چراغ آنے والا ہے ۔“
سیٹھ رام داس نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔خوشی سے ان کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
”لیکن مالک آپ کے پاس تو کھود(خود)ہی بڑی بڑی مو ٹر گاڑی بااور مالکن بھی ہمیشہ بڑی بڑی گاڑی ما جات با(جاتی ہیں) آج بھلا اوہمار رکشہ سے کیسے جا سکت ہیں۔“
”ہاںجمنا تم ٹھیک کہہ رہے ہو،لیکن آج ہڑتال ہے، سڑک پر کوئی مو ٹر گاڑی نہیں چل رہی ہے،ہر جانب سڑک پر ہنگامہ ہے، تمہارے رکشہ سے گلی گلی نکل جائیں گے ،چل اب جلدی کر۔
”لیکن مالک !“
”لیکن ویکن کیا؟میری بات تیری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔“
سیٹھ رام داس نے غصہ سے کہا۔
”مالک ہمکا بھی اپن پتنی کو ہسپتال لے کے جائےکبا۔“(مجھے بھی اپنی بیوی) آج ہمر گھر بھی۔ “
جمنا نے سیٹھ رام داس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔لیکن سیٹھ رام داس اس وقت جمنا کی کوئی بات سننا نہیں چاہتے تھے ۔انہوں نے جمنا کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔
”دیکھ جمنا تو نے میرے گھر کا برسوں سے نمک کھایا ہے، اگر اس وقت تو نے میری مدد نہیںکی اور تیری وجہ کر تیری مالکن اور ہونے والے بچے کو کچھ بھی ہوا توسمجھ تیری خیر نہیںہے۔“
سیٹھ رام داس نے غصہ سے جمنا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔جمنا اداس نظروں سے سیٹھ رام داس کا منہ دیکھنے لگا۔اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ سیٹھ رام داس کے حکم کو ٹھکرا سکے ۔ اس نے اداس من کے ساتھ رکشہ نکالتے ہوئے ایک نگاہ اپنی پتنی پر ڈالی۔جو درد سے کراہ رہی تھی۔وہ دکھی من کے ساتھ سیٹھ رام داس اور مالکن کو گلی گلی ہوتے ہوئے ہسپتال تک لے کر آیا اور چپ چاپ ہسپتال کے کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔اس وقت اس کا پورا دھیان اپنی پتنی میں لگا ہوا تھا۔اس کا دل اندر سے بیٹھاجا رہا تھا۔اس نے کھینی نکال کر ہتھیلی پررکھا،لیکن پھر واپس رکھ لیا اور ہسپتال کی دیوار پر لگی بچوں کی تصویر کو حسرت بھری نگاہوںسے دیکھتا رہا ۔ تبھی سیٹھ رام داس خوش ہو کر اس کے پاس آئے اور سو روپیہ کا نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولے۔
”لے جمنا یہ سو روپیہ جا جاکہ میٹھائی کھالے، آج میرے گھر کا وارث آیا ہے، میرے گھر کا چراغ اس سے میرے گھر کا ونش چلے گا۔ “
”مالک اب ہم اپن گھر جا سکت (اپنے گھر جا سکتے) ہیں۔“جمنا نے سیٹھ رام داس کو خوش دیکھتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
”ہاںہاں تم جا سکتے ہو ،اب تمہارا یہاںکوئی کام نہیںہے۔“
جمنا رکشہ ہانکتا ہوا گھر آیا۔اس کی پتنی درد سے زمین پر لوٹ پوٹ ہورہی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے پتنی کو رکشہ پر رکھا اور تیزی سے رکشہ چلانے لگا۔اس وقت سڑک پر ہڑتال کا اثر کم ہو گیا تھا۔ سڑک پر چند موٹر گاڑیاں بھی چلنی شروع ہو گئی تھیں۔ وہ تیز رفتار سے رکشہ چلاتے ہوئے ہوا سے باتیںکر رہا تھا۔کئی بار وہ گاڑی کی زدمیں آنے سے بال بال بچا،لیکن وہ راستہ کاٹتے ہوئے آگے نکلتا جا رہا تھا۔اس نے رکشہ سیدھا ہسپتال کے اندر جاکر روکااور پتنی کوبھرتی کرایا،اوربے چینی کے عالم میں ٹہلنے لگا۔کچھ دیر کے بعد ڈاکڑنی باہر آئی توجمنا دوڑ کر ڈاکڑنی کے پاس آیا۔
”سوریمیںمیں تمہارے بچے کو نہیںبچا سکی،اگر تم وقت پر اپنی پتنی کو ہسپتال لے کر آجاتے تو تمہارا بچہ بچ جاتا۔ “
یہ خبر سن کر جمناکی آنکھوں سے بے شمار آنسو گرنے لگے اور اپنے آنسو پوچھتے ہوئے تڑپ کرڈاکڑنی سے کہا۔
” ڈاکڑنی جی ! آپ لوگن تو بھگوان سمان ہو،ہمر بچو ا کو کیسنو کر کے (کسی طرح)بچا لیتیں،ہمر سپنا چور چور ہو گئیل با(میرا خواب ٹوٹ گیا)۔ ای بچوا کو لے کر ہم اورہمار پتنی نے کا کا سپنا دیکھت ہتھن(دیکھا تھا) سوچت ہتھن(سوچا تھا) ای بچوا کو ہم اپن جیسا رکشہ والا نہ بنائیبو(بنائیں گے)بلکہ ای بچوا کو پڑھا لکھاکر بڑاآمدی(آدمی) بنائیبو (بنائیںگے)لیکن اب سب ختم ہوگئیل با۔ “
جمنا نے گیلی آواز میں کہا۔ اس کی بات سن کر ڈاکڑنی کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ اس نے جمنا سے دوبارہ مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
”مجھے یہ بتاتے ہوئے بھی نہایت افسوس ہو رہا ہے کہ۔“
”اب کون بتوا (بات)کا افسوس ڈاکڑنی جی ہمرلئے (میرے لئے) اس سے بڑکا افسوس کی بات کابا۔“
”اس سے بھی بڑی افسوس کی بات یہ ہے کہ تمہاری ! “
ڈاکڑنی نے نیچی نگاہ کرتے ہوئے کہا ، پھر خاموش ہو گئی۔
”اب کا تمہاری ہمر صاف صاف بتاوا ڈاکڑنی جی!“جمنا نے اداس نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”تمہاری پتنی کبھی ماں نہیں بن سکتی۔“
ڈاکڑنی کی بات سن کرجمنا پتھرسا مہبوت بنا کھڑا رہااور ڈاکڑنی کو غور سے دیکھنے لگا۔ اس کا پورا جسم برف کی مانند ٹھنڈا پڑ گیا تھا ۔ اس کے قدم ایک جگہ جم گئے۔ اس کے کان میں سیٹھ رام داس کے بچے کی کلکاری گونج رہی تھی لیکن اس کے گھر کا چراغ ہمیشہ کے لئے بجھ گیاتھا۔