پرینکا گاندھی کی بھیم آرمی کے چندر شیکھر آزاد سے ملاقات» مودی کےخلاف وارانسی سے الیکشن لڑنے کی تیاری

میرٹھ / سہارنپور: کانگریس کی جنرل سکریٹری (مشرقی یو پی) پرینکا گاندھی نے بدھ کے روز میرٹھ کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج بھیم آرمی کے رہنما چندر شیکھر آزاد کی عیادت کی۔ پرینکا گاندھی کے ہمراہ مغربی یوپی کے انچارج جیوتیرادتیہ سندھیا بھی موجود تھے۔ اس ملاقات کے بعد کچھ لوگ یہ امید بھی ظاہر کرنے لگے ہیں کہ شاید چندر شیکھر بھی کانگریس کی رکنیت اختیار کر لیں گے یا پھر کانگریس کے ساتھ اتحاد کریں گے۔ دراصل بدھ کے روز ہی چندر شیکھر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اگلے عام انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف میدان میں اتریں گے۔

بھیم آرمی کے صدرچندرشیکھرسےاسپتال میں ملاقات کے بعد پرینکا گاندھی نےکہا ‘چندرشیکھرکی ہرلڑائی میں ان کےساتھ ہوں’۔

قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ کیا چندر شیکھر کانگریس کے ٹکٹ پروارانسی سے میدان میں ہوں گے یا پھرکانگریس بھیم آرمی کو نریندرمودی کے خلاف حمایت دے گی۔

کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری اورمشرقی اترپردیش کی انچارج پرینکا گاندھی بدھ کو بھیم آرمی کے صدرچندرشیکھرسے ملنے اسپتال پہنچ گئیں۔ پرینکا گاندھی کےاس طرح سے چندرشیکھرسے ملاقات کرنے کی خبرسے سیاسی گلیاروں میں قیاس آرائیوں کا بازارایک بار پھرگرم ہوگیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ 15 مارچ کے بعد چندرشیکھرالیکشن لڑنےاورکانگریس سےاتحاد کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔

چندر شیکھر سے ملاقات کے بعد پرینکا گاندھی نے صحافیوں سے کہا، ’’یہ مغرور حکومت ہے جو نوجوانوں کی آواز کچلنا چاہتی ہے۔ یہ نوجوان ہیں، روزگار تو حکومت نے دیا نہیں، اگر جد و جہد کر رہے ہیں تو کرنے دیجئے۔ یہ حکومت نوجوانوں کی آواز پر کان نہیں دھرنا چاہتی۔‘‘

پرینکا گاندھی سے ملاقات کے بعد چندر شیکھر آزاد نے کہا کہ ’’میری بہن پرینکا گاندھی مجھ سے ملاقات کے لئے آئی تھی۔ انہوں نے میری طبیعت کے بارے میں جانا۔ میں بہوجن سماج میں پیدا ہوا ہوں اور بہوجن سماج میں ہی مروں گا۔ وزیر اعظم مودی جہاں سے چناؤ لڑیں گے وہاں سے میں بھی لڑوں گا۔ ہم مودی جی کو ہرائیں گے اور انہیں گجرات بھیجیں گے۔ میں اتحاد کو حمایت دوں گا۔‘‘

بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر کو پولس نے منگل کے روز دیوبند سے گرفتار کیا تھا۔ ان پر مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ بعد میں طبیعت خراب ہونے پر علاج کے لئے انہیں میرٹھ کے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

بقول چندر شیکھر، پہلے تو وہ اپنی تنظیم سے کوئی مضبوط امیدوار اتارنے کی کوشش کریں گے اور امیدوار نہ ملنے پر وہ خود مودی کے خلاف چناؤ لڑیں گے۔ انہوں نے بدھ کے روز جاری ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’’کل (منگل) دیوبند میں ان کے مارچ کو انہیں کے اشارے پر روکا گیا۔ ہمارے پاس مارچ کی اجازت تھی لیکن انتظامیہ اور حکومت اس بات کو لے کر چھوٹ پھیلا رہے ہیں۔‘‘

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading