ایران سے مذاکرات ناکام: اب آگے کیا ہوگا؟

اکیس گھنٹے 47 سالہ دشمنی کو ختم کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی اعلیٰ سطح کے مذاکرات، جو کئی ہفتوں کی تباہ کُن جنگ میں ایک وقفے کے دوران ہوئے، کسی اور نتیجے پر پہنچنے کے امکانات بہت کم تھے۔

ان طویل مذاکرات کو ناکامی کہنا، اُن بڑے چیلنجز کی اصل وسعت کا ادراک نہ کرنے جیسا ہے جو دونوں فریقوں کو درپیش تھے، چیلنجز ایسے پیچیدہ مسائل پر موجود وسیع اختلافات کو کم کرنے سے متعلق تھے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام پر پرانی سے چلی آ رہی بداعتمادی سے لے کر اُن نئے مسائل تک شامل ہیں جو اس جنگ نے پیدا کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ہے، جس کی بندش پوری دنیا میں معاشی جھٹکے پیدا کر رہی ہے۔

کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے، دونوں فریقوں کو گہری بد اعتمادی کی خلیج بھی عبور کرنا تھی۔ایک دیرینہ سیاسی دھبہ سمجھے جانے والی حقیقت اب ٹوٹ گئی ہے۔

اب فوری سوال یہ ہے: آگے کیا ہوگا؟

دو ہفتے کی اُس متنازع جنگ بندی کا کیا بنے گا جس نے دنیا کی توجہ اپنی طرف کر دی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اُس خوفناک دھمکی کو بھلا دیا کہ ایران میں ایک ’پوری تہذیب‘ کو تباہ کر دیں گے؟کیا امریکی صدر اپنے مذاکرات کاروں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بھیجنے کے لیے تیار ہوں گے؟

اسلام آباد میں موجود ذرائع سے یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ کچھ بات چیت اُس کے بعد بھی جاری رہی، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس علی الصبح اپنا جہاز لے کر روانہ ہوئے اور اعلان کیا کہ امریکی وفد نے اپنی ’آخری اور بہترین پیشکش‘ پیش کر دی ہے۔

کیا اب امریکہ مزید سختی کرے گا یا مذاکرات کا راستہ اپنائے گا؟

ہم اب بھی یہ نہیں جانتے کہ اسلام آباد کے پرسکون مگر قلعہ بند فائیو سٹار ہوٹل میں بند دروازوں کے پیچھے کیا ہوا، جہاں مذاکرات رات گئے تک جاری رہے۔

ابھی تک دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والے اختلافات اور بات چیت کی تفصیلات بہت کم سامنے آئی ہیں، خواہ پاکستانی ثالثوں کی معاونت ہو، یا ماہرین اور مشیروں سے کی جانے والی درجنوں کالز، اور وینس کے مطابق ٹرمپ کو کی جانے والی ’درجنوں‘ براہ راست فون کالز۔

نائب صدر نے فجر کے وقت ہونے والی مختصر پریس کانفرنس میں امریکہ کے ’بنیادی مقصد‘ پر بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ایک واضح یقین دہانی درکار ہے کہ (ایران) نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، اور نہ ہی ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی جو اسے تیزی سے جوہری ہتھیار بنانے کے قابل بنائے۔‘

فروری میں ہونے والے آخری دورِ مذاکرات کے دوران، جب دوبارہ فوجی حملے شروع ہونے سے پہلے، ایران نے کچھ نئی رعایتیں دی تھیں، جن میں اس کے 440 کلوگرام یورینیم کے ذخیرے (جو 60 فیصد تک افزودہ ہے اور ہتھیاروں کی سطح کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے) کو کم سطح پر لانا شامل تھا۔

لیکن ایران اب بھی افزودگی کے اپنے ’حق‘ پر ڈٹا ہوا ہے اور اس ذخیرے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں، وہ ذخیرہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گذشتہ سال امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ملبے کے نیچے گہری جگہوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایران نے بارہا مطالبات کے باوجود آبنائے ہرمز کھولنے سے بھی انکار کیا ہے، جس سے تیل، گیس اور دیگر اہم سامان کی آزادانہ نقل و حرکت ممکن ہو سکے اور وہ کہتا ہے کہ یہ صرف نئے معاہدے کی موجودگی میں ہی ہو سکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading