عالمی یومِ میمن پر ’کچھی میمن پولیٹیکل اینڈ سوشل جسٹس فورم‘ کا اعلان، نمائندگی اور حقوق کے لیے جدوجہد کا عزم
ممبئی: ملک کی تعمیر و ترقی اور تحریکِ آزادی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی کچھی میمن برادری نے اب اپنے سیاسی اور سماجی حقوق کے حصول کے لیے باقاعدہ طور پر ایک غیر جانبدار اور آزاد پلیٹ فارم ’کچھی میمن پولیٹیکل اینڈ سوشل جسٹس فورم‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ عالمی یومِ میمن 2026 کے موقع پر اس فورم کا آغاز کرتے ہوئے کچھی میمن جماعت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد کمیونٹی میں سیاسی بیداری پیدا کرنا، نوجوانوں اور خواتین کی قیادت کی حوصلہ افزائی کرنا اور جمہوری ایوانوں میں کمیونٹی کی متناسب و منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔
اس فورم کے نیشنل کنوینر ندیم پٹیل اور نیشنل کوآرڈینیٹر علی بھوجانی نے اپنے مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ میمن کمیونٹی ایک دانشمند اور سخی کمیونیٹی ہے جس نے ملک کی معاشی مضبوطی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تحریک آزادی میں عمر سوبانی اور آزاد ہند فوج کے قیام کے دوران یوسف مرفانی جیسے عظیم رہنماؤں کی قربانیاں ہماری تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔ مگر قیادت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج کے جمہوری نظام میں، خاص طور پر مہاراشٹر اور گجرات جیسی ریاستوں میں کثیر آبادی ہونے کے باوجود، ہماری سیاسی نمائندگی انتہائی تشویشناک حد تک کم ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن ہو یا ریاستی اسمبلیاں، مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کی جانب سے کمیونٹی کو وہ مقام اور نمائندگی نہیں دی جا رہی جس کی وہ حقدار ہے۔
فورم کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں صراحت کی گئی ہے کہ یہ نیا پلیٹ فارم کسی مخصوص سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں ہے۔ کمیونٹی کے مقاصد کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے دو اعلیٰ سطحی مشاورتی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ ’سیاسی امور کی مشاورتی کمیٹی‘ میں ملک بھر سے مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ سرکردہ اور تجربہ کار رہنما شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں مہاراشٹر کے سابق کابینی وزیر ڈاکٹر انیس احمد، کرناٹک کے سابق وزیر تنویر عزیز سیٹھ، سابق رکنِ راجیہ سبھا ایڈوکیٹ مجید میمن، گجرات وقف بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر محسن لوکھنڈوالا، سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی اور چھتیس گڑھ سے اعجاز ڈھیبر جیسی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔ یہ کمیٹی سیاسی میدان میں نوجوانوں کی رہنمائی اور جمہوری شرکت کو مضبوط کرنے کی سمت میں کام کرے گی۔
اسی طرح ’سماجی انصاف کی مشاورتی کمیٹی‘ میں سماجی، تعلیمی اور فلاحی شخصیات کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں آل انڈیا میمن جماعت فیڈریشن کے صدر اقبال میمن آفیسر، ورلڈ میمن آرگنائزیشن (انڈیا) کے صدر ڈاکٹر حسین اگھاڑی، حاجی علی و ماہم درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی، معروف ماہرِ ماحولیات آصف بھاملا اور ممتاز صحافی جاوید زکریا جیسے نامور افراد شامل ہیں جو کمیونٹی کی سماجی بیداری اور انصاف کے لیے کام کریں گے۔
ندیم پٹیل اور علی بھوجانی نے کمیونٹی کے تمام نوجوانوں، پیشہ ور ماہرین اور سماجی کارکنان سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنیں تاکہ کارپوریٹر سے لے کر ایم ایل اے اور وزیر تک کے عہدوں پر کچھی اور میمن برادری کی مؤثر نمائندگی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے اور ایک بااختیار قوم کی تعمیر ہو سکے۔
