یکم مئی سے رکشہ و ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان لازمی
قواعد کی خلاف ورزی پر لائسنس منسوخی کا انتباہ، جانچ مہم کا اعلان
تھانے: (آفتاب شیخ)
مہاراشٹر میں یکم مئی، یوم مہاراشٹر سے لائسنس یافتہ رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان جاننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موٹر ٹرانسپورٹ محکمہ کی جانب سے ریاست بھر کے 59 ریجنل اور سب ریجنل دفاتر کے ذریعے خصوصی جانچ مہم چلائی جائے گی، جس کے تحت ڈرائیوروں کے لائسنس کی تصدیق کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا وہ مراٹھی زبان لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔
پرتاپ سرنائیک نے خبردار کیا کہ جو ڈرائیور مراٹھی زبان سے ناواقف پائے جائیں گے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لائسنس جاری کرتے وقت مقامی زبان کے علم کی شرط پہلے سے نافذ ہے، تاہم ممبئی میٹروپولیٹن ریجن، چھترپتی سمبھاجی نگر اور ناگپور جیسے شہروں سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ کئی ڈرائیور مسافروں سے مراٹھی میں گفتگو کرنے سے قاصر ہیں یا اس سے گریز کرتے ہیں۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے مزید کہا کہ جس خطے میں کاروبار کیا جائے وہاں کی زبان سیکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنی مادری زبان پر فخر کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں میں مقامی زبان کا احترام بھی ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یکم مئی سے اس اصول پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی متنبہ کیا کہ اگر کوئی ٹرانسپورٹ اہلکار قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی طریقے سے لائسنس جاری کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔