بیڑ بائے پاس سروس روڈ میں حائل قبضہ جات ہٹانے کی کاروائی : دودنوں میں ۵۵ قبضہ جا ت ہٹائے گئے

  • میونسپل انتظامیہ اصول وضوابط کو نظر انداز کرکے زمین ہتھیانے کے فراق میں
  • عدالتی حکم ماننے سے میونسپل افسران کا انکار کہاکاروائی روکنے کے لے میونسپل کمشنر کے دستخط ضروری

اورنگ آباد:(جمیل شیخ):بیڑ بائے پاس روڈ کا ٹریفک کم کرنے اور اس ٹریفک کو منتقل کرنے کے لئے میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے اس راستے کو ۰۰۲ فٹ کرنے اور سروس روڈ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کی کاروائی عملی طور پر شروع کردی گئی ہے۔ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے گذشتہ روز کاروائی شروع کی اور یہ کاروائی آج بھی جاری رہی دو دنوں کے دوران میونسپل کارپوریشن انتظامیہ میں راستے میں حائل ۵۵ قبضہ جات ہٹانے کا دعویٰ کیا ہے میونسپل کارپوریشن کی اس کاروائی پر لوگوں کو اعتراض ہے ۔ان کا الزام ہے کہ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنارہا ہے جبکہ راستے میں حائل بڑی عمارتوں کو نظر انداز کیاجارہا ہے۔ متاثرین کا یہ الزام بھی ہے کہ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ عدالتی اسٹے ہونے کے باوجود من مانے طریقے سے کاروائی کررہا ہے۔ اسٹے دکھائے جانے پر میونسپل افسران وملازمین اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ متاثرین سے کہا جارہا ہے کہ اسٹے گھر میں رکھئے کاروائی نہ کرنے کا حکم میونسپل کارپوریشن سے لے کر آئےے۔

میونسپل کارپوریشن کی یہ کاروائی زور زبردستی اور دبائو کے تحت چل رہی ہے اصولاً راستہ کشادگی میں حائل املاک لینڈ ایکویزیشن ایکٹ کے تحت کاروائی کرنے کے بعد ایکوائر کی جانی چاہئے۔ لیکن لوگوں کو ڈرا دھمکاکر میونسپل حکام زمین پر قبضہ کررہے ہیں۔کارپوریشن کے اس روےے سے لوگوں میں شدید ناراضگی ہے دوسری جانب اس یکطرفہ کاروائی پر عوامی نمائندے خاموش ہیں ۔واضح رہے کہ اورنگ آباد شہر میں بڑی گاڑیوں کا داخلہ روکنے اور ان گاڑیوں کو شہر کے باہری راستے سے نکالنے کے لئے برسوں پہلے بیڑ بائے پاس تعمیر کیاگیا تھا لیکن شہر کی ترقی کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھتی گئی اور اب یہ راستہ شہر کا باہری راستہ نہیں بلکہ اندرونی راستے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ آج بھی اورنگ آباد ہوکر گزرنے والی بڑی گاڑیاں اس راستے سے ہوکر جاتی ہیں ۔شہری علاقے میں شامل ہوجانے کے سبب قریب کی آبادیوں اور بڑی گاڑیوں کے گزرنے کے سبب اس راستے پر بے تحاشہ ٹریفک میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس راستے پر کئی لوگ حادثات کا شکار ہوچکے اور اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ ان حادثات کو روکنے کے لئے نہ صرف میونسپل کارپوریشن انتظامیہ بلکہ ٹریفک پولس نے کئی ٹھوس قدم اٹھائیں۔بڑی گاڑیوں کے گزرنے کے اوقات میں تبدیلی کی گئی راستے سے گزرنے والی گاڑیوں پر لگام لگائی گئی باوجود اس کے حادثات میں کمی آنے کے متواتر اضافہ ہی ہوا۔

حکومت مہاراشٹر نے بیڑ بائے پاس راستے کو اچانک 200فٹ کشادہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برسوں پہلے منظورہ پلان کے مطابق یہ راستہ100 فٹ کشادہ تھا اور اس پلان کے مطابق ہی علاقہ کے ساکنان نے میونسپل کارپوریشن سے اجازت لے کر راستوں کے کنارے اپنے مکانا ت ،دوکانیں تعمیر کیں اور کاروباری ادارے قائم کئے لیکن اب اچانک راستے کی کشادگی 200 فٹ کردئے جانے کے سبب راستے کے دونوں جانب موجود وہ مکانات جو کارپوریشن کی اجازت سے تعمیر کئے گئے کشادگی کی زد میں آچکے ہیں۔اس سے قبل یہ علاقہ سنسان غیر آباد تھا یہ علاقہ ساتارا دیولائی گرام پنچایت کے تحت آتا تھا ۰۲ سے ۰۳ سال قبل لوگوں نے گرام پنچایت سے باضابطہ اجازت حاصل کرکے اپنے مکانا ت تعمیر کئے لیکن آج کشادگی کی کاروائی کے دوران میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ اس اجازت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ جس زمانے میں جس وقت یہاں گرام پنچایت ہوا کرتی تھی اسوقت وہ میونسپل کارپوریشن سے کیوں کر اجازت حاصل کرتے۔خون پسینے کی کمائی سے خریدی گئی املاک کو آج میونسپل کارپوریشن انتظامیہ ناجائز قبضہ بتارہا ہے جس پر متاثرین کو سخت اعتراض ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کی جانی والی کاروائی سے پہلے کئی املاک مالکان عدالت سے رجوع ہوچکے ہیں اور انھوں نے باضابطہ عدالت سے املاک کے خلاف کاروائی پر اسٹے حاصل کیا ہے

لیکن گذشتہ روز شروع کی گئی کاروائی کے دوران میونسپل کارپوریشن کے ناتجربہ کار اور غیر ذمہ دارافسران عدالت کے حکم کو یکسر انداز کرکے عدالتی فیصلے کی توہین کررہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں وہ اس حکم کو ماننے کے لئے تیار بھی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم دکھانے کے بجائے میونسپل کمشنر سے کاروائی رکنے کا حکم لے آئیں۔ مطلب یہ ہوا کہ میونسپل افسران کے نزدیک میونسپل کارپوریشن کا کمشنر عدالت سے بڑا ہوا۔متاثرین نے کہا کہ وہ راستے کشادگی کے ہرگز خلاف نہیں ہے لیکن ان کی املاک بھی مفت کی نہیں ہے لہذا قوانین وضوابط کے مطابق املاک تحویل میں لینے کے لئے ایکویزیشن کی کاروائی کی جائے۔ اس کے بعد ہی زمین تحویل میں لینی چاہئے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں جلد ہی مشترکہ طور پر میونسپل کمشنر اور دیگر اعلیٰ افسران سے نمائندگی کریں گے لیکن اس کے باوجود ان کی سنوائی نہ ہوتی ہوت وپھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاکر انصاف طلب کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر میونسپل کارپوریشن کے خلاف آندولن شروع کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری میونسپل کارپوریشن پر عائد ہوگی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading