امریکہ اور ایران کے تعلقات پر نظر رکھنے والے ماہرین گذشتہ چند دنوں کی پیش رفت اور اس تنازع کے ممکنہ انجام پر مختلف آرا پیش کر رہے ہیں۔
کوئنسی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تریتا پارسی کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی معاہدے تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ تاہم ان کے مطابق سٹیٹس کو قائم ہو جائے گا جس کے تحت امریکہ مذاکرات سے دستبردار ہو جائے اور ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا شروع کر دے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو دونوں فریق اپنی اپنی فتح کا دعویٰ کریں گے۔ تاہم تریتا پارسی کے مطابق یہ صورتِ حال ایران کے لیے مثالی نہیں ہوگی، کیونکہ اسے پابندیوں میں نرمی کے ساتھ کسی معاہدے سے کہیں زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ پابندیاں نہ ہٹنے اور یورپ و ایشیا کے ساتھ معاشی روابط بحال نہ ہونے کی صورت میں ایران میں تعمیرِ نو ممکن ہی نہیں۔
2021 سے 2023 تک ایران کے لیے امریکی خصوصی ایلچی کے فرائض انجام دینے والے رابرٹ ملی کا کہنا ہے کہ ایرانی فیصلہ سازوں کے لیے سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ اگر وہ یورینیم کی افزودگی ترک کریں تو کیا گارنٹی ہے کہ صدر ٹرمپ بعد میں معاہدے سے مکر نہیں جائیں گے اور دوبارہ پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔
دوسری جانب جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے وابستہ نرگس بازوغلی کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے ذریعے صدر ٹرمپ نے خود کو ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں قیمتوں میں اضافے اور قلت کا سیاسی بوجھ اب اُن کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ اُن کے مطابق ایران اب دباؤ کے لیے اپنے جوہری پروگرام کے بجائے آبنائے ہرمز کو سب سے مؤثر ہتھیار سمجھنے لگا ہے۔