ہالینڈ کے شہر یوٹریکٹ میں ایک نامعلوم شخص نے ٹرام اور کئی دیگر مقامات پر فائرنگ کی ہے جس سے کم از کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس نے کہا ہے کہ حملہ آور ایک سے زیادہ ہو سکتے ہیں جنھیں پولیس ڈھونڈنے کی کوشش کررہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آور کار کے ذریعے جائے واقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ یو ٹریکٹ میں تمام ٹرامزسروسز کو بند معطل کر دیا گیا ہے اور سکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دروازے بند رکھیں۔

مشتبہ ترکش حملہ آور
ٹرام میں فائرنگ کا یہ واقع مقامی وقت کے مطابق پونے گیارہ بجے (جی ایم ٹی 10:40) رونما ہوا۔
ہالینڈ کی انسداد دہشتگردی پولیس نے کہا ہے کہ بظاہر یہ دہشگردی کا واقع ہے۔

ڈچ انسداد دہشتگردی پولیس کے رابطہ کارپیٹر یاپ البرسبرگ نے کہا ہے کہ تمام کوششیں حملہ آور کو پکڑے پر مرکوز ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ حملہ آور ایک سے زیادہ ہوں۔
ہالینڈ میں خطرے کا درجہ سب سے بلند سطح تک بڑھا دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مسلح پولیس جائے وقوع کے قریبی علاقے اوکتوبرپلین چوک کے قریب کے ایک گھر کے قریب جمع ہے اور اس گھر میں گھسنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
ہالینڈ حملہ: سخت سیکیورٹی » مساجد و اسکول بند
پولیس نے ٹریم سٹیشن کے نزدیکی علاقے کو گھیرے میں لے کر لوگوں سے اپیل کی ہے وہ اس علاقے کی طرف نہ جائیں تاکہ ایمرجسنی سروسز اپنا کام کر سکیں۔
The police asks you to look out for the 37 year old Gökman Tanis (born in Turkey) associated with the incident this morning at the #24oktoberplein in #Utrecht. Do not approach him but call 0800-6070. pic.twitter.com/U1IWEDtUYu
— Politie Utrecht (@PolitieUtrecht) March 18, 2019
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈچ انسداد دہشگردی کے رابطہ کار نے ایمرجنسی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
وزیر اعظم مارخ رتے نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے سے شدید پریشان ہیں۔
سکیورٹی سروسز نے یوٹریکٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر سے کہا ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج کے لیے ایک ایمرجنسی وارڈ مختص کریں۔
ایک عینی شاہد نے کہا ہے کہ حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹAFPImage captionحملہ آور ٹرام میں فائرنگ کرنے کے بعد موقع سےفرار ہو گیا ہے
ایک اور عینی شاہد نے ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے این او ایس کو بتایا ہے کہ اس نے ایک زخمی عورت کو دیکھا ہے جس کے ہاتھ اور کپڑے خون آلود تھے اور اس نے عورت کو اپنی کار لا کر مدد کی۔ عینی شاہد نے بتایا کہ جب پولیس موقع پر پہنچی تو زخمی عورت بے ہوش تھی۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعے میں کتنے لوگ زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے کتنے شدید زخمی ہیں۔
اوٹریجٹ میں تمام ٹریمزسروسز کو بند معطل کر دیا گیا ہے اور سکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دروازے بند رکھیں۔
بشکریہ بی بی سی اردو