ڈچ ملٹری پولیس کا کہنا ہے کہ فوری طور پر سرکاری عمارتوں، ایئر پورٹ اور اہم شاہراہوں کی سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔
ملٹری پولیس کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’ یوتریخت میں جاری صورتحال کے پیش نظر، نیدرلیںڈز کے تمام ایئرپورٹ اور اہم سرکاری عمارتوں پر روئیل ملٹری پولیس ہائی الرٹ ہے‘۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جائے وقوع کے اطراف قائم مساجد اور اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے جبکہ حکام نے یوتریخت میڈیکل سینٹر کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ایمرجنسی سینٹر کو مکمل فعال رکھیں اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کریں۔
کابینہ کا اجلاس ملتوی
A shooting occurred on the #24oktoberplein in #Utrecht. The incident has been reported at 10.45 hour. Multiple people have been injured. The surrounding area has been cordoned off and we are investigating the matter.
— Politie Utrecht (@PolitieUtrecht) March 18, 2019
برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق ڈچ وزیر اعظم مارک روٹے نے ہفتہ وار کابینہ کا اجلاس ملتوی کردیا ہے۔
ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے نے کا کہا کہ مقامی انتخابات سے چند روز قبل یہ حادثہ انتہائی پریشان کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ مساجد اور ایئرپورٹ کی سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔
ہالینڈ کے وزیراعظم نے کہا کہ یوتریخت میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں ،اس واقعے کو دہشت گرد حملےکے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیدرلینڈز’ کبھی بھی عدم برداشت کو ملک میں جگہ نہیں دے گا‘۔
مارک روٹے نے ہیگ میں وزیر برائے انصاف کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ حادثے میں متعدد زخمی ہوئے اور ہلاکتوں کا بھی امکان ہے‘۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مسلح حملہ آور نے ٹرام پر بلااشتعال فائرنگ کی جبکہ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور واردات کے بعد گاڑی میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
ڈچ پبلک براڈ کاسٹر این او ایس کے مطابق ایک مزید عینی شاہد نے بتایا کہ ’میں نے خون میں لت پت ایک خاتون کو سڑک پر دیکھا جنہیں میں نے اپنی کار میں لٹادیا تھا، خاتون بے ہوش تھیں جنہیں بعد ازاں پولیس نے ہسپتال منتقل کردیا۔
مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق واقعے کے بعد ٹرام سروس کو منسوخ کردیا گیا۔