نوٹ بندی کے دو سال

GVuSR1Ed_400x400اشوک راؤچوہان
ریاستی صدر،مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی

دوسال قبل وزیراعظم نریندرمودی نے ایک انتہائی غیر متوقع فیصلہ کرتے ہوئے ۵۰۰اور۱۰۰۰ کے نوٹوں کو بند کردیا تھا۔ اگرمودی جی کی زبان میں بات کریں تو انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ نوٹ اب کاغذ کے ایک ٹکڑے ہوجائیں گے‘۔ اس فیصلے کو آج دوسال ہوچکے ہیں اور ہمیں یہ دیکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ اس دھمکی آمیزفیصلے سے واقعتاً کیا حاصل ہوا؟ خاص طور سے ایک ایسے موقع پر جب برسرِ اقتدار پارٹی اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے جذباتی باتوں پر زوردے رہی ہے۔ اس لئے اس موقع پر نوٹ بندی کے نتائج اور اس کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نوٹ بندی حکومت کا فیصلہ تھا؟ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ ہمارے ملک میں جو بھی اہم فیصلے ہوتے ہیں، اس میں کئی شعبہ جات اور ماہرین کی منظوری ورضامندی شامل ہوتی ہے۔ پہلے اس کے بنیادی خدوخال پر غور کیا جاتا ہے، رپورٹ تیار کی جاتی ہے، آپسیصلاح ومشورہ ہوتا ہے، رپورٹ میں کئی طرح کی تبدیلیاں کی جاتی ہیں اور سب اہم یہ کہ حزبِ اختلاف کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ یہ ایک دستوری طریقہ ہے۔ لیکن نوٹ بندی کے فیصلے سے متعلق اس طرح کی کوئی معلومات ہمارے سامنے نہیں آئی کہ اس فیصلے سے قبل حکومت کے سامنے کون سی رپورٹ پیش ہوئی تھی؟ خصوصی معاشی مشیر، کابینہ یا پھر کسی خصوصی وزیر سے اس معاملے میں کیا صلاح ومشورہ کیا گیا تھا اور اگر کیا گیا تھا تو اس پر انہوں نے کیا ردعمل ظاہر کیا؟ ان میں سے کسی کے ساتھ ہوئی میٹنگ کے کوئی مینٹس ہیں کیا؟ اور سب سے اہم یہ کہ ریزرو بینک کے دائرہ کار کے اس فیصلے کا اعلان وزیراعظم نے کیوں کیا؟ ایسے کئی سوالات ہیں جن کے جواب آج حکومت کو دینا چاہئے ۔لیکن جن عوام کی زندگی اور ان کے پیسوں سے کھلواڑ کیا گیا، ان کو بھی حکومت جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی ۔ اسے ہٹلرازم نہیں تو پھر کیا کہا جائے؟
بہر حال اب ہم نوٹ بندی کے وقت کئے گئے دعوں ، بتائے گئے مقاصد نیز اس سے واقعتاً حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی نے ابتداء میں اس فیصلے کے تین مقاصدبتائے تھے۔ پہلا بلیک منی یعنی کہ غیرقانونی دولت پر روک لگانا اور انہیں باہر لانا۔ دوسرا مارکیٹ میں موجود جعلی نوٹوں کی نشاندہی اور ان پر روک، اور تیسرا دہشت گردی ونکسل کارروائیوں پر روک ۔ آج دو سال بعد جب ہم ان اعلانات کی طرف دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوا۔ ہم پہلے بلیک منی کے روک تھام اور اس کی بازیابی کے دعوے کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بیشتر لین دین نقد کی صورت میں ہوتا ہے۔ بہت سے لین دین ایسے بھی ہوتے ہیں کہ گاہکوں کو رسید تک نہیں ملتی ہے۔ رسید نہ ملنے کو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ اس لین دین میں استعمال ہونے والا پیسہ بلیک کا تھا یا پھر یہ لین دین غیرقانونی تھی؟ اگر ایسا سمجھا جاتا ہے تو یہ خالص بیوقوفانہ سوچ ہوگی۔ کیونکہ ہمارے ملک میں رکشہ چلانے والے، سبزی وپھل فروٹ فروخت کرنے والے، چھوٹے موٹے دوکاندار، گاؤں کیہفتہ واری بازاروں میں ضرورت کی اشیاء فروخت کرنے والے دوکاندار، کپڑوں پر استری کرنے والے وغیرہ جیسے چھوٹے موٹے کاروباری جو بھی کاروبار کریں گے ، لوگوں سے لین دین کریں گے، وہ تمام کا تمام صریح طور پر بلیک لین دین ٹھہرے گا۔ اس لئے یہ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ تمام نقد بلیک نہیں ہے۔All cash is not black۔ اس ملک میں محنت مزدوری کرنے والی ایک بڑی اکثریت جو لین دین کرتی ہے،وہ نقد میں ہوتا ہے اور وہ بلیک نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ہمیں یہ بھی ملحوظ رکھنا ہوگا کہ اگر کوئی بدعنوان شخص لین دین کرتا ہے تو وہ بلیک میںکرتا ہے، جس کے روک تھام کے لئے یوپی اے حکومت کے دونوں دور میں کئی مناسب اقدام کئے گئے تھے ۔ اس لئے یہ سوچنا بھی انتہائی غلط ہوگا کہ وہ بدعنوان لوگ جن کے پاس بلیک منی ہے، وہ نوٹوں کی گڈیاں اور پیٹیاں اپنے گھروں میں چھپاکر رکھتے ہیں، اور جیسے ہی نوٹ بندی کا فیصلہ کیا جائے گا، وہ تمام کے تمام لوگ اپنے بلیک کے پیسے باہر نکالنے پر مجبور ہونگے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام بلیک نقد کی شکل میں نہیں ہوتی۔ بلیک کا زیادہ تر پیسہ غیرمنقولہ جائیدادوں، غیرملکی کمپنیوں ودیگر کاروبار میں استعمال کئے گئے ہوتے ہیں۔ لیکن ان حقائق پر غور کرنے کے بجائے ۵۰۰ ؍اور ۱۰۰۰؍ کے نوٹ ہی رد کردئیے گئے جس کی وجہ سے بازار کی مانگ میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوگئی ۔ مانگ کم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہونا اور بازار کی مندی کی جانب چل پڑنا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو چھوٹے موٹے کاروباری وکارخانہ دار تھے، ان کے خریدارکم ہوگئے اور ان کے جو چھوٹے موٹے کاروبار یا ان کا جو کارخانہ تھا، وہ بند ہوگئے۔ اس کا اثر وہاں کام کرنے والے لوگوں پر بھی پڑا ۔سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اندازے کے مطابق ملک کی جی ڈی پی میں ۲ فیصد کی کمی آگئی ۔ لیکن اشتہاربازی کی چکاچوند وبرانڈنگ میں مشغول حکومت کو ابھی تک ان نقصانات کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکا ہے۔ان سب کے درمیان مارکیٹ میں ۲۰۰۰ روپئے کا نوٹ لایا گیا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اپنے جس نوٹ بندی کے فیصلے کا تذکرہ حکومت بڑے فخر سے کرتی ہے، اسی فیصلے کے مطابق۵۰۰روپئے کا نوٹ دوبارہ بازار میں لایا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ زیادہ مالیت یعنی ۲۰۰۰روپئے کا نوٹ بھی بازار میں لایا جاتا ہے۔یہ فیصلے کون لے رہا تھا اور معاشی نقطہ نظر سے یہ کس خانے میں فٹ ہورہا تھا؟ یہ ہمیں نہیں معلوم اور اس کی کوئی وضاحت بھی نہیں کرتا ہے۔
اب ہم دوسرے مقصد کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ بات بار بار کہی جاتی رہی ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلے سے جعلی نوٹوں پر روک لگے گی۔لیکن اس مقصد کی ناکامی تو اظہر من الشمش ہے۔ کیونکہ جن ایام میں پورا ملک نوٹ بندی کی اذیت جھیل رہا تھا، عین انہیں ایام میں مارکیٹ میں جعلی نوٹوں کی آمد کی خبریں بھی آنے لگی تھیں۔ کسی بھی سرکاری اعداد وشمار کے مطابق برآمد جعلی نوٹ ۴۰۰کروڑ روپئے سے زائد نہیں ہے، گویا ایک لاکھ روپئے میں زیادہ سے زیادہ ۲۵ روپئے جعلی ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ جس غیرذمہ دارانہ اور بغیر کسی تیاری کے نوٹ بندی کا فیصلہ لیا گیا، اس سے یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ کہیں کچھ جعلی نوٹوں کو حکومت نے اصلی سمجھ کر تو نہیں قبول کرلیا ہے؟ کیونکہ عوام کے کسی بھی سوال کا جواب نہ دینے والی اس حکومت نے اس معاملے میں بھی کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
نوٹ بندی کے معاملے میں تیسرا مقصد دہشت گردانہ یا نکسل کارروائیوں پر روک لگانا بتایا گیا تھا۔اس معاملے میں سب سے پہلے توہم یہ کہیں گے کہ ملک کی سالمیت وتحفظ کے تئیں حکومت کا رویہ نہایت غیرذمہ دارانہ ہے جس پر ہمیں شدید غصہ بھی آتا ہے۔ دیش بھکتی کا بلند وبانگ کے دعویٰ کرنے والی حکومت کیا آج یہ بتاسکے گی کہ نوٹ بندی کے فیصلے سے دہشت گردی یا نکسل ازم میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے؟بلکہ اب تو اپنی فوج کے سربراہ تک یہ خدشہ ظاہر کرنے لگے ہیں کہ پنجاب میں دہشت گردی اپنے سرابھارسکتی ہے۔ اندراجی سے لے کر کئی لوگوں نے جس دہشت گردی کو اپنے خون کا بلیدان دے کر روکا تھا، اس نکسل ازم کا جڑ ایک بار پھر مضبوط ہوا ہے جسے حکومت ’اربن نکسل واد‘ قرار دے کر شہروں میں رہنے والے دانشورارن، سماجی وانسانی حقوق کے کارکنان کو گرفتار کر رہی ہے۔ لیکن ایک بار پھر اس موضوع پر ’من کی بات ‘کرنے کیلئے وزیراعظم تیار ہی نہیں ہیں۔الغرض ، حکومت کادہشت گردی ونکسل واد کو ختم کرنے کا اعلان شدہ مقصد ابتدا میں ہی فوت ہوتا ہوا نظر آنے لگاتھا، اس لئے اس نے دوسرا راگ الاپنا شروع کیا کہ اس کا مقصد ڈیجیٹل لین دین بڑھا کر ’کیش لیس‘ کو بڑھاوا دینا ہے۔ اس دوسرے پروپیگنڈے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اور خاص طور سے وزیراعظم کا لوگوں کی عام زندگی سے رابطہ کس طرح ختم ہوا ہے۔ اگر ملک کو ’کیش لیس‘ کرنا ہے تو اس کے لئے جس بنیادی ڈ
ھانچے کی ضرورت ہوتی ہے ، اس کیکوئی بھی تیاری حکومت نے نہیںکی اور نہ ہی اس کا کوئی جائزہ لیا۔ اگر لین دین کریڈٹ کارڈ، ڈیبیٹ کارڈ وغیرہ سے کرنا ہے تو اس کے لئے ملک میں کیا اور کتنی سہولیات دستیاب ہیں؟ موبائیل ایپ سے پیسے ٹرانسفر ہوتے ہیں ، یہ سچ ہے۔ لیکن اس کے لئے اسمارٹ فون کی ضرورت ہوتی ہے اور اسمارٹ فون کی تعداد ملک میں کتنے لوگوں کے پاس ہے؟ اس کا نیٹ ورک کتنا وسیع ہے؟ اس تیکنک کو جاری رہنے کے لئے کتنی بجلی درکار ہے؟ اور سب سے اہم یہ کہ اس سسٹم کوروزمرہ کے استعمال میں لانے کے لئے انٹرنیٹ کا کتنا بڑا نیٹ ورک درکار ہوگا؟ یہ بنیادی سوالات اس سوٹ بوٹ کی سرکار کو سمجھ میں بھلا کیا آنے والا تھا۔ دوسری بات کم قیمت میں لین دین کرنے کی ہے ۔ جب کوئی دوکاندار یا کاروباری کارڈ مشین سے پیسے لیتا ہے تو اسے یہ سہولت فراہم کرنے والا بینک اس سے زائد پیسے وصول کرتا ہے۔
ملک میں ایسے کئی گاؤں ہیں جہاں اے ٹی ایم چھوڑئیے، بینک بھی کئی کلومیٹر دور ہوتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کو اگر بینک جانا ہوتا ہے تو انہیں ہفتے میں ایک دن اس کے لئے مخصوص کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ صبح کسی سواری کا انتظام کرکے انہیں کچھ گھنٹے سفرکرکے بینک جانا ہوتا ہے۔ بینک کا کام ہوجانے کے بعد انہیں پھر اسی طرح سواری کا انتظام کرکے شام کو اپنے گھر آنا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ایک مزدور کو گویا ایک دن کی چھٹی کرنی ہوتی ہے یعنی اس دن کی مزدوری کے پیسے اسے نہیں ملنے ہیں۔ نوٹ بندی کا جب اعلان ہوا تو ان لوگوں کو اپنے جمع شدہ پیسے لے کر بینک جانا پڑا۔ کئی گھنٹوں کا سفر کرکے جب یہ لوگ بینک پہونچے تووہاں انہیں طویل قطار نظر آئی۔ اس طویل قطار میں بھوکے پیاسے کھڑے رہ کر جب یہ بینک کے کاؤنٹر تک پہونچے تو معلوم ہوا کہ بینک بند ہوچکاہے۔ اس کے بعد پھر ان لوگوں کو وہی طویل سفر اور طویل قطار کا عذاب بھگتنا پڑا۔ اس مرحلے میں کچھ لوگوں کو اپنے خود کے پیسے بینک میں جمع کرنے کے لئے کئی کئی دن لگ گئے۔ اس کی وجہ سے ان کی روزآنہ کی مزدوری گئی۔ کئی لوگوں کو بھوکے پیاسے رہنا پڑا۔ اور سب اہم یہ کہ ۱۰۰؍ سے زائد لوگوں کو اپنی جان تک گنوانی پڑیں۔ اور یہ کس کے لئے؟ یہ سب اس لئے کہ خود کے پیسے بینک میں محفوظ رکھا جائے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر نوٹ بندی سے کیا فائدہ حاصل ہوا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس روزگار کم ہوا، صنعت کاری میں نئی سرمایہ کاری ماند ہوگئی، ایکسپورٹ کم ہوا، سرکاری تجوری میں ٹیکس کے خاطر خواہ پیسے نہ آنے پر حکومت کو پٹرول، ڈیژل و کوکنگ گیس کی قیمتیں بڑھاکر عوام کی جیبوں پر راست حملہ کرنے کی نوبت آگئی۔ لوگوں کا حکومت کے اوپر سے اعتماد متزلزل ہوا۔ سچائی یہ ہے کہ نوٹ بندی سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ فائدہ ہوا تو صرف ایک آدمی کا کہ اس نے اپنے اہنکاری مزاج کو مطمئن کرنے کی ایک متکبرانہ کوشش کی۔ بدقسمتی سے اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود بھی حکومت کا دماغ ٹھکانے نہیں آرہا ہے۔ اہم فیصلے لینے سے قبل ماہرین سے صلاح ومشورہ ایک عوامی مفاد کا قدم تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن نوٹ بندی کے دو سال مکمل ہوتے ہوتے اس حکومت نے جن خصوصی معاشی ماہرین ، پلاننگ کمیشن کے صدر جیسے لوگوں کو نامزد کیا تھا، وہ لوگ حکومت کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ حکومت نے اپنے جس پسندیدہ آر بی آئی گورنر کا انتخاب کیا تھا، ان سے حکومت کی سرد جنگ جاری ہے اور ملک کی تباہ ہورہی معیشت پٹری پر آنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ یہ سب باتیں قابل غور ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading