اپنی ہی پارٹی کے میئر کے خلاف کانگریسی کارپوریٹروں نے کھولا محاذ
بھیونڈی (شارف انصاری):- بھیونڈی نظام پور شہر مہانگر پالیکا میں گھر پٹی نل پٹی وصولی پرائیویٹ ٹھیکیدار کمپنی کو دینے کے معاملے میں سیاسی گلیاروں ہنگامہ برپا ہے وہیں شہریوں میں بھی ٹیکس وصولی پرائیویٹ کمپنی کو دینے کے معاملے کو لے کر شدید ناراضگی پھیلی ہوئی ہے ۔ ان دنوں شہر میں یہ مسئلہ ہر گلی اور چوراہیں پر موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔عوام میں اس مسئلے کو لے کر شدید برہمی کو دیکھتے ہوئے اپنی پارٹی کے میئر کے خلاف کانگریسی کارپوریٹروں نے ہی مورچہ کھول دیا ہے۔ کارپوریشن میں کانگریس کے گروپ لیڈر حلیم انصاری، شاف احمد مومن، خان مطلوب (سردار)، تجمل حسین، ارون راوت ، شبنم محبوب الرحمن انصاری سمیت درجن بھر سے زیادہ کارپوریٹروں نے میئر اور میونسپل کمشنر کو مکتوب لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس وصولی کا ٹھیکہ پرائیویٹ کمپنی کو نہ دیا جائے۔ کارپوریٹروں نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ اس موضوع کو آئندہ جنرل اجلاس میں رکھنے کے لئے تجویز پیش کی گئی ہے ۔اسے فورا مسترد کر دیا جائے ۔اس معاملے میں بھیونڈی شہر ضلع صدر شعیب گڈو نے بھی اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی زبردست مخالفت کی ہے کہ کارپوریشن گھر پٹی نل پٹی وصولی کا ٹھیکہ پرائیویٹ کمپنی کو دینے کی تجویز سراسر غلط ہے ۔بھیونڈی شہر ضلع کانگریس صدر شعیب گڈو نے کہا کہ جس طرح سے بجلی کے بل وصولی میں پرائیویٹ ٹورنٹ کمپنی اپنی من مانی اور داداگری کر رہی ہے وہی حالت عوام کے ساتھ پرائیویٹ ٹھیکیدار کمپنی کے ٹیکس وصولی میں کرے گی ۔اس لئے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد ہی آگئ قدم بڑھا ٹھیک ہوگا ۔ کانگریس سمیت تمام مخالف پارٹیوں نے بھی ٹیکس وصولی پرائیویٹ کمپنی کو دینے کے معاملے میں اپنی مخالفت جتا رہی ہیں ۔ کارپوریشن میں حذب مخالف پارٹی لیڈر اور بی جے پی کارپوریٹر شیام اگروال نے کہا کہ میئر کے اس مسئلے کو لے کر شہریوں میں اضطرابی کیفیت ہے اس لئے عوام کی رائے کو دیکھتے ہوئے ٹیکس وصولی کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو دینے کی تجویز جنرل اجلاس میں بحث کے لئے نہیں لایا جائے تو اچھا ہو گا ۔سینکڑوں ملازمین ٹیکس وصولی کے محکمے میں کام کر رہے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر کام چور ہیں اور صحیح طریقے سے ٹیکس نہیں وصولتے۔ کرپشن کر اپنی جیب بھرتے ہیں۔ ان پر سختی سے کاروائی کر دیگر وسائل کے ذریعہ بھی ٹیکس وصولی کا کام کیا جا سکتا ہے ۔اسی طرح سماجوادی پارٹی کے چیئرمین عرفات شیخ اور راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ضلع صدر خالد گڈو نے بھی ٹیکس وصولی کا ٹھیکہ پرائیویٹ کمپنی کو دیے جانے کی تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے پہلے ہی عوامی تحریک کا انتباہ دے چکے ہیں۔ شہر کی تمام سماجی اداروں کے عہدیداروں کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ ٹیکس وصولی کارپوریشن انتظامیہ اپنے ملازمین کے ذریعے ہی کرے۔ اس موضوع پر سوال کرنے پر میئر جاوید دلوی نے بتایا کہ گزشتہ سال ٹیکس ادائیگی میں چھوٹ دینے کے لئے شروع کی گئی ابھئے یوجنا کے باوجود صرف 17 فیصد ٹیکس کی وصولی ہوئی تھی۔ جس میں ابھئے یوجنا شروع کر ٹیکس بقايہ داروں کو ٹیکس کی چھوٹ دینے کی وجہ سے کارپوریشن کو 8 کروڑ روپئے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ میئر نے اپنے بیان میں کہا کہ آکٹرائے اور ایل بی ٹی بند ہونے کے بعد کارپوریشن کی آمدنی کا اہم ذریعہ ٹیکس ہی بچا ہے۔ جب بھیونڈی کی عوام ٹیکس نہیں بھرے گی تو کارپوریشن میں آمدنی کا ذریعہ بند ہو جائیں گا ۔تو شہر کی ترقی کس طرح ہو گی ؟ وہیں یہ سوال پوچھے جانے پر کہ آپ کی ہی کانگریس پارٹی کے کارپوریٹرز اس معاملے کو لے کر میئر کی مخالفت کر رہے ہیں ۔اس سوال پر پلٹ جواب دیتے ہوئے میئر نے کہا کہ مہانگر پالیکا چلانا اور شہر کی ترقی کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے ہم جو بھی کام کرے گے وہ شہر اور عوام کے مفاد میں جو ہو گا وہی کیا جائے گا۔ میئر نے اپنی اس تجویز کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جنرل اجلاس میں یہ تجویز منظور کر انتظامیہ اور حکومت کے پاس بھیجا جائے گا ۔وہاں سے تجویز کو منظوری ملنے کے بعد پھر پرائیویٹ کمپنی کو ٹھیکہ دینے پر غور کیا جائے گا۔ اس میں عوام کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہ ہوں اس کے لئے بھی متبادل رکھا جائیگا ۔ میئر نے مثال دی کہ اس سے پہلے بھیونڈی میں بجلی محکمہ کروڑوں روپیہ بقایا ہو گیا تھا اور ایم ایس ای بی کے زمانے میں بجلی کے بل کی وصولی نہیں ہوتی تھی ۔لیکن جب سے بھیونڈی میں بجلی کی فراہمی کا ٹھیکہ پرائیویٹ کمپنی کو دیا گیا اس کے بعد سے بھیونڈی میں بجلی بل کی وصولی 90 فیصد بڑھ گئی ہے۔ جس وجہ سے شہر میں بجلی کی فراہمی بہت اچھی ہو گئی ہے۔ میئر جاوید دلوی نے کہا کہ ہماری شہریوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن شہریوں کو بھی چاہئے کہ وہ وقت سے اپنا ٹیکس بھریں ۔گزشتہ سالوں میں اس طرح ٹیکس نہ بھرنے کی وجہ سے ٹیکس کی بقایا رقم بڑھتے بڑھتے 335 کروڑ روپئے سے اوپر ہو گئی ہے اگر یہی پیسہ پورا وصول ہوتا تو آج بھیونڈی شہر کی حالات اس طرح نہیں ہوتی۔ لوگوں کو شہری سہولیات میں سڑک، پینے کا پانی، سڑک پر روشنی کے لئے اسٹریٹ لائٹ، صفائی، تعلیم اور ہیلتھ خدمات کے سارے کام وقت پر ہوتے اور دن بہ دن شہر ترقی کی جانب بڑھتا۔ شہر کی بدحالی کے لئے جہاں کارپوریشن ملازمین ، افسران اور لیڈر ذمہ دار ہیں وہی ٹیکس نہ بھرنے والی عوام بھی اس کے لئے ذمہ دار ہے ۔