جَلگاؤں: ملک میں نیٹ پیپر لیک معاملے اور دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بعد سیاسی ماحول مسلسل گرم ہے۔ اسی دوران مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ایک بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے، جہاں پارٹی کے ایک اہم مقامی رہنما نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
امَلنیر شہر بی جے پی کے صدر اور میونسپل کونسل کے سابق چیئرمین شیام جیونت راؤ پاٹل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اپنے استعفیٰ نامے میں انہوں نے کہا ہے کہ دہلی میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد اور موجودہ بی جے پی پالیسیوں سے وہ شدید رنجیدہ اور مایوس ہیں، اسی لیے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
شیام جیونت راؤ پاٹل نے اپنے مکتوبِ استعفیٰ میں لکھا کہ جمہوری ملک میں طلبہ کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش افسوسناک ہے، اور ایسے حالات میں پارٹی کے ساتھ رہنا ان کے ضمیر کو قبول نہیں۔
سیاسی حلقوں میں ان کے اس فیصلے کو بی جے پی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے پر حکمراں جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
واضح رہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے پر ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے، اور اس مسئلے نے قومی سیاست میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔